Thursday, December 8, 2022

ترکی: اپوزیشن لیڈر فتح اللہ گولن کے ٹی وی چینل اور اخبارات پر پابندی لگا دی گئی

ترکی: اپوزیشن لیڈر فتح اللہ گولن کے ٹی وی چینل اور اخبارات پر پابندی لگا دی گئی
انقرہ (ویب ڈیسک) ترکی میں اتوار کو ہونے والے پارلیمانی انتخابات سے پہلے حکومت نے اپوزیشن لیڈر کی بائیس کمپنیوں پر قبضہ کرکے اس کے زیرانتظام چلنے والے ٹی وی چینل اور اخبارات بند کر دیئے۔ اپوزیشن گروپوں نے اس پر سخت احتجاج کیا اور ٹی وی چینل کے دفتر کے سامنے دھرنا دے دیا۔ تفصیلات کے مطابق ترکی میں اتوار کو پارلیمانی انتخابات ہو رہے ہیں۔ انتخابات سے پہلے ترکی کی حکومت نے اپوزیشن لیڈر فتح اللہ گولن اور ان کے ساتھیوں کی ملکیتی بائیس کمپنیوں پر قبضہ کر لیا ہے اور ان کمپنیوں کے زیرانتظام ملک کے تیسرے بڑے چینل اور اخبارات کے دفاتر بھی بند کر دیئے ہیں۔ ترک صدر رجب طیب اردگان کے سابق اتحادی اور اب سب سے بڑے حریف فتح اللہ گولن پر حکومت نے غداری کا مقدمہ چلا رکھا ہے اور پراسیکیوٹر نے عدالت سے فتح اللہ گولن کو چونتیس سال قید کی استدعا کی ہے۔ چوہتر سالہ فتح اللہ گولن امریکہ میں مقیم ہیں۔ اپوزیشن جماعتوں نے میڈیا پر کریک ڈاﺅن کے خلاف سخت احتجاج کیا ہے اور بند کئے گئے ٹی وی چینل کے دفتر کے سامنے دھرنا دے رکھا ہے۔ پولیس نے ٹی وی چینل سے منسلک کئی صحافیوں کو گرفتار کر لیا ہے۔