Monday, December 5, 2022

تحریک انصاف کے ناراض دھڑوں کا 3 ستمبر کے مارچ کے بائیکاٹ کا اعلان

تحریک انصاف کے ناراض دھڑوں کا 3 ستمبر کے مارچ کے بائیکاٹ کا اعلان
لاہور(92نیوز)تحریک انصاف میں انٹرا پارٹی انتخابات کے دوران ہونے والے اختلافات ختم نہ ہو سکے۔ زبیرخان کو ہٹا کر اشرف سوہنا کو مرکزی صدر بنانے سے ناراض دھڑے نے تین ستمبر کے پاکستان مارچ کے بائیکاٹ کا اعلان کردیا۔ ناراض رہنماؤں نے نعیم الحق اور عون چودھری پر جماعت کو تباہ کرنے کا الزام بھی عائد کیا ہے۔ تفصیلات کےمطابق انٹرا پارٹی الیکشن ملتوی ہوئے مدت ہوئی تحریک انصاف کا مرکز سے صوبوں اور اضلاع تک تنظیموں کی نامزدگیوں کا عمل تیزی سے جاری ہے لیکن جماعت کے اندر اختلافات ہیں کہ ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہے ہر بڑے موقع پر کوئی نہ کوئی منحرف رہنما سامنے آجاتا ہے۔ اس بار جب پی ٹی آئی تحریک احتساب کے اہم مرحلے میں پاکستان مارچ کرنے جا رہی ہے تو جماعت کی لیبر ونگ میں پھوٹ کھل کر سامنے آگئی سابق صدر زبیر خان اور سیکرٹری اطلاعات انعام الحق سلیم نے ایک پمفلٹ جاری کیا ہے جس میں تین ستمبر کے کالاشاہ کاکو لاہور مارچ کے بائیکاٹ کا اعلان کیا گیا ہے۔ ناراض رہنماؤں نے الزام عائد کیا ہے کہ جماعت کے مرکزی رہنما نعیم الحق اور عمران خان کے پولیٹیکل سیکرٹری عون چودھری نے تحریک انصاف کے یوتھ ونگ، کلچر ونگ، خواتین، اقلیتی، علماء، تاجر، وکلاءونگز اور آئی ایس ایف کا بیڑا غرق کر دیا ہے اور اب تحریک انصاف لیبر ونگ کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔ پمفلٹ میں عمران خان کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ان کے فیصلوں کی وجہ سے اٹھانوے فیصد عوام ان سے دور اور روایتی سیاستدان، سرمایہ دار، جاگیردار اور لٹیرے ان کے قریب ہو گئے ہیں پمفلٹ میں اعلان کیا گیا کہ لیبر ونگ کی کوئی بھی تنظیم پاکستان مارچ میں شریک نہیں ہوگی اور اس کا مکمل بائیکاٹ کیا جائے گا۔