Thursday, December 9, 2021
English News آج کا اخبار براہراست نشریات(UK) براہراست ٹی وی
English News آج کا اخبار
براہراست نشریات(UK) براہراست ٹی وی

تحریک انصاف کے ارکان اسمبلی کو ڈی سیٹ کرنے کا معاملہ اہم موڑ پر پہنچ گیا

تحریک انصاف کے ارکان اسمبلی کو ڈی سیٹ کرنے کا معاملہ اہم موڑ پر پہنچ گیا
July 30, 2015
اسلام آباد(92نیوز)تحریک انصاف کے ارکان اسمبلی کو ڈی سیٹ کرنے کا معاملہ اہم موڑ میں داخل ہو گیا ایم کیو ایم اور  جے یو آئی اسے آئینی  مسئلہ قرار دے رہی ہے جبکہ حکومت مفاہمت چاہتی ہے تحریک انصاف کا کہنا ہے کہ فیصلہ کریں خیرات نہیں لیں گے۔ تفصیلات کے مطابطق ایک طرف آئین کا تقاضا اور دوسری جانب مصلحت،مفاہمت اور سیاست کی پالیسی تحریک انصاف کے ارکان اسمبلیوں میں رہیں تو کیا قدغن ہے اور اگر انہیں ڈی سیٹ کر دیا جاے تو کیا فرق پڑتا ہے بات کرتے ہیں ارکان پارلیمنٹ سے۔ شیخ روحیل اصغر ممبر قومی اسمبلی مسلم لیگ (ن) کا کہنا ہے کہ پاکستان کے اور بھی بڑے مسائل ہیں کیا یہی بہت بڑا مسلہ ہے سیلاب کا مسئلہ ہے انرجی کا مسلہ ہے تاجر ہڑتال کر رہے ہیں انہیں دیکھیں۔ ڈاکٹر اظہر جدون ممبر قومی اسمبلی تحریک انصاف کا کہنا ہے کہ ہمیں نکالیں گے تو ہم ہیرو بن جائیں گے اگر یہ ہمیں ہیرو بنانا چاہتے ہیں تو ضرور بنائیں۔ مشاہد اللہ خان وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلیا ں کا کہنا ہے کہ  ہمارے نزدیک پی ٹی آئی کی کوئی آئینی حیثیت نہیں ان لوگوں کی حیثیت ہے جنہوں نے ان کو ووٹ دئیے ہیں۔ سفیان یوسف ممبر قومی اسمبلی ایم کیو ایم کا بیان ہے کہ  اسمبلیوں کو گالیاں دینے والی پی ٹی آئی آج (ن) لیگ کی خیرات لے گی۔ شیخ آفتاب وفاقی وزیر پارلیمانی امور نے کہا ہے کہ  ان کو ڈی سیٹ نہیں ہونا چاہیے ان کو اسمبلی میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ عمران ظفر لغاری ممبر قومی اسمبلی پیپلز پارٹی نے بھی اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ  عوام نے انہیں ووٹ دئیے ہیں ان سے نادانی ہوگئی ہے جس کو وہ ماننے کے لیے تیار نہیں یہ کوئی طریقہ نہیں کہ انہیں اسمبلی سے نکال دیا جائے۔ شیخ صلاح الدیں  ممبر قومی اسمبلی ایم کیو ایم نے کہا ہے کہ یہ آئین اور قانون کی بات ہے اگر پارلیمنٹ کو آئین کے مطابق چلانا ہے تو ٹھیک ورنہ مرضی ہے ۔ ارکان پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ آئین تو اجازت نہیں دیتا کہ تحریک انصاف کے ارکان اسمبلی میں رہیں لیکن ملکی حالات کا تقاضا ہے کہ حکمت عملی سے کام لیا جاے اور تحریک انصاف کے اراکین کو ڈی سیٹ نہ کیا جاے تاکہ قانونی مسائل سے نکل کر ملکی مسائل کی طرف توجہ دی جا سکے۔