Tuesday, October 4, 2022

تارکین وطن کو روکنے کیلئے یورپ اور ترکی میں معاہدہ طے پا گیا

تارکین وطن کو روکنے کیلئے یورپ اور ترکی میں معاہدہ طے پا گیا
برسلز (ویب ڈیسک) ترکی اور یورپی یونین شامی مہاجرین کے بحران سے نمٹنے کیلئے ایک معاہدے پر متفق ہو گئے ہیں جس کے تحت یورپی یونین شامی مہاجرین کی یورپ آمد روکنے کیلئے ترکی کو تین ارب یورو دے گی۔ تفصیلات کے مطابق برسلز میں ہونے والی کانفرنس میں مہاجرین کے بحران سے نمٹنے کے علاوہ ترک شہریوں کیلئے ویزا شرائط میں نرمی اور ترکی کی یورپی یونین میں شمولیت کے معاہدے کیلئے مذاکرات کے آغاز پر بھی معاملات طے پا گئے۔ ترک وزیراعظم احمد داود اوغلو نے اس اتفاق رائے کو پڑوسیوں میں اچھے تعلقات کا آغاز قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ معاہدے میں مشترکہ سرحدوں پر بروقت اور ازسرنو امن کی بحالی بھی شامل ہے جبکہ ترکی میں شامی مہاجرین کی مدد کیلئے کام کیا جائیگا اور یورپی یونین ترکی میں شامی پناہ گزینوں کو رہائش اور خوراک کیلئے تین ارب یوروفراہم کریگا۔ اس حوالے سے معاہدہ چند ہفتے پہلے طے پا گیا تھا جس کی یورپی یونین اور ترک حکام نے منظوری دیدی۔ اس رقم سے ترکی میں موجود شامی مہاجرین کا معیار زندگی بلند کرنے اور انہیں یورپ جانے کی کوشش میں جانیں خطرے میں ڈالنے کی بجائے ترکی ہی میں رہنے پر قائل کیا جائیگا۔ یورپی کمیشن کے صدر کلاو¿ڈ جنکر نے کہا تین ارب یورو کی رقم دو سال کیلئے ہو گی۔ اسی طرح یورپی ممالک متنازعہ سرحدوں کا تعین کرنے پر بھی متفق تھے۔ داو¿د اوغلو نے بتایا کہ ترکی اور یورپ عالمی امن کے قیام پر بھی تعاون کریں گے۔