Wednesday, October 5, 2022

تاج محل کو مندر قرار دینے کیلئے ہندوؤں نے عدالت کا رخ کر لیا

تاج محل کو مندر قرار دینے کیلئے ہندوؤں نے عدالت کا رخ کر لیا
آگرہ(ویب ڈیسک)بابری مسجد کو شہید کرنے کے بعد ہندو انتہا پسند تاج محل کے درپے ہوگئے  اس بار  تاج محل کو مندر قرار دینے کی لیے عدالت کا رخ کیا گیا ہے دوسری طرف خود ہی بھارت کے وزیر ثقافت نے اس بات کی تردید کی ہے کہ تاج محل کے مندر ہونے کے شواہد نہیں ملے ۔ تفصیلات کےمطابق بھارت میں عدم برداشت اور اقلیتوں سے ناروا سلوک کوئی نئی بات نہیں بات بابری مسجد کی ہو یا گولڈن ٹیمپل میں سکھوں کا قتل عام یہاں سب معمول کی باتیں ہیں۔ ہندو انتہا پسندوں نے بابری مسجد کی شہادت کے بعد تاریخی سیر گاہ تاج محل کے حوالے سے دُرفنطنی چھوڑ دی ہے۔ اس حوالے سے آگرہ کی ایک عدالت میں  مقدمہ دائر کیا گیا ہے جس میں تاج محل کو ہندو مندر قرارد ینے اور یہاں پوجا کی اجازت دی جانے کا کہا گیا ہے ، ہندو انتہا پسندوں کا کہنا ہے کہ یہ شیو مندر ہے اور یہاں مسلمانوں کو جانے سے باز رکھا جائے۔ تاہم دوسری طرف  وزیر ثقافت  مہیش شرما نے عدالت میں اس مقدمے کے حوالے سے  عدالت کو آگاہ کیا ہے کہ اس بات کے کوئی شواہد نہیں ہیں کہ آگرہ ماضی میں تاج محل ماضی میں کوئی مندر رہ چکا ہے۔ اس سے قبل بھارت کے محکمہ آثار قدیمہ نے بھی اس دعوے کو مسترد کیا تھا  مگر ہندو انتہا پسندؤں کو مسلمانوں کی جانب سے بنائی گئی ہر خوبصورت اور تاریخی عمارت میں ہندو مندر ہی دکھائی دے رہا ہے۔