Thursday, September 29, 2022

بے نظیر بھٹو قتل کیس ، 2 پولیس افسران کی ضمانت منسوخی کی درخواست مسترد

بے نظیر بھٹو قتل کیس ، 2 پولیس افسران کی ضمانت منسوخی کی درخواست مسترد
اسلام آباد (92 نیوز) سپریم کورٹ نے سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو قتل کیس میں 2 پولیس افسران کی ضمانت منسوخی کی درخواست مسترد کر دی۔ بے نظیر بھٹو قتل کیس میں سزا پانے والے سابق ایس پی خرم شہزاد اور سابق سی پی او سعود عزیز کی ہائی کورٹ سے ضمانتوں کے خلاف پیپلزپارٹی کی کارکن کی درخواست مسترد کی گئی۔ سپریم کورٹ کے سینیئر ترین جج جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے فریقین کے دلائل مکمل ہونے پر فیصلہ سنایا۔ دوران سماعت جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دئیے بے نظیر بھٹو کی شہادت میرے لیے بھی صدمے کا باعث بنی۔ جب کرائم سین دھویا گیا تو میں نے دوستوں سے کہا یہ کیا کر رہے ہیں۔ شک کبھی ثبوت کا متبادل نہیں بن سکتا۔ بی بی سی نے بے نظیر قتل کیس کی تحقیقات پولیس سے زیادہ اچھی کی ہے۔ ہمیں یہ بھی دیکھنا ہے کہ کہیں معصوم لوگوں کو پھنسایا تو نہیں جا رہا۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا عدالت فیصلے کے وقت سب کچھ مدنظر رکھتی ہے۔ شواہد نہ ہوں تو ہائی کورٹ ضمانت دے سکتی ہے۔ یہ کہنا درست نہیں کہ ہائی کورٹ کو ضمانت کا آئینی اختیار نہیں۔ ضمانت منسوخی کا قانون اور اصول بلکل واضح ہے۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے سوال اٹھایا سکیورٹی کی فراہمی میں کوتاہی فوجداری جرم کیسے ہو گیا؟۔مشرف کے ملوث ہونے کے شواہد کہاں ہیں۔ عدالت نے قانون کے مطابق چلنا ہے۔ سیاست اور قانون میں فرق رکھیں۔