Friday, October 7, 2022

بیٹی کو چاق و چوبند رکھنا ہے تو ماں کو بھی چاق و چوبند رہنا ہو گا: تحقیقی رپورٹ

بیٹی کو چاق و چوبند رکھنا ہے تو ماں کو بھی چاق و چوبند رہنا ہو گا: تحقیقی رپورٹ
میلبورن (ویب ڈیسک) اگر آپ بیٹی کی ماں ہیں اور چاہتی ہیں کہ آپ کی بیٹی اپنی زندگی چاق و چوبند اور چست طریقے سے گزارے تو اس کیلئے آپ کو خود پھرتیلی زندگی بسر کرنی پڑے گی۔ جی ہاں اس بات کا انکشاف آسٹریلیا کی یونیورسٹی آف نیوکاسل سے وابستہ سائنسدانوں کی ٹیم نے کیا ہے۔ محققین نے کہا ہے کہ بیٹیوں کے طرز عمل اور نظریات پر عام طور سے اپنی ماو¿ں کی گہری چھاپ ہوتی ہے اور سائنسی شواہد سے بھی یہ بات ثابت ہو گئی ہے کہ لڑکیوں کی جسمانی سرگرمیوں پر ماو¿ں کا گہرا اثرورسوخ تھا۔ رپورٹ کے مطابق جو لڑکیاں پھرتیلی ماو¿ں کے ساتھ تھیں وہ جسمانی طور پر زیادہ فعال تھیں جبکہ دوسری جانب فارغ بیٹھ کر وقت گزارنے والی ماو¿ں کی بیٹیوں میں اپنا زیادہ وقت سکرین کے سامنے گزارنے کا رجحان دیکھا گیا۔ نتائج سے یہ بھی ظاہر ہوا کہ ہر عمر کی لڑکیاں اور عورتیں، لڑکوں اور مردوں کے مقابلے میں جسمانی طور پر کم فعال تھیں اور جسمانی فعالیت کے یہ فرق عمر کے ساتھ بڑھ رہا تھا۔ یہ تحقیقی رپورٹ ”میٹرنل اینڈ چائلڈ ہیلتھ“ سائنسی رسالے میں شائع ہوئی ہے۔ تجرباتی مطالعے کے دوران شرکاءنے 7روز میں تقریباً ہر روز آٹھ گھنٹے تک الیکٹرانک ڈیوائس ایکسیلرو میٹر پہنے رکھا جس سے ان کی حرکات و سکنات کا ریکارڈ جمع کیا گیا اور جسمانی سرگرمیوں کی سطح کی پیمائش ہوئی۔ محققین نے مشاہدہ کیا کہ جو مائیں ورزش کے بارے میں مثبت سوچ رکھتی تھیں انہوں نے اپنا سارا وقت مختلف کام کرتے ہوئے گزارا اور ان کی بیٹیوں نے بھی ورزش یا سپورٹس سرگرمیوں میں حصہ لینے میں رجحان رکھا۔ دوسری جانب وہ مائیں جو کھیل کود یا دیگر ورزشی سرگرمیوں سے دور رہیں ان کی بیٹیوں نے زیادہ وقت کمپیوٹر یا ٹی وی کے سامنے بیٹھ کر گزارا۔