Wednesday, September 28, 2022

بھمالہ میں بدھ مت تہذیب کی دریافت حکومتی عدم توجہی کا شکار

بھمالہ میں بدھ مت تہذیب کی دریافت حکومتی عدم توجہی کا شکار

پشاور (92 نیوز) خیبر پختونخوا کے ضلع ہری پور کے علاقہ خان پور بھمالہ میں بدھ مت تہذیب کی بہترین دریافت محکمہ آثار قدیمہ کی عدم توجہی کا شکار ہے۔ سائٹ کی دیکھ  بھال کے لئے اور اسے محفوظ بنانے کے لئے اقدامات نہ ہونے کے برابرہیں۔
ضلع ہری پور کے علاقہ بھمالہ میں دنیا کا قدیم ترین سلیپنگ مجسمہ ویسے تو 2015 کو ہزارہ یونیورسٹی نے دریافت کیا تھا مگر محکمہ آثار قدیمہ نے پی ٹی آئی کے چئیرمین عمران خان کی آمد پر ایک بار پھر اسے دریافت کر لیا۔ 48 فٹ لمبا مہا پری میروانہ یعنی ڈیٹھ سین آف بدھا کھدائی کے دوران ٹوٹ گیا تھا مگر یہ اب ملکی اور غیر ملکی سیا حوں اور ماہرین کی توجہ کا مرکز ہے۔
بھمالہ سائٹ تیسری صدی عیسوی کے وہ آثار ہیں جسے 1930 میں سر جان مارشل نے دریافت کیا۔ تحقیق مکمل ہونے کے بعد انھوں نے اسے دوبارہ بھر دیا تاکہ اس میں کنجور کا پتھر خراب نہ ہونے پائے۔
محکمہ آثار قدیمہ کی غفلت کا اندازہ یہاں دیواروں میں اگنے والے پودوں سے لگایا جا سکتا ہے۔
انتہائی اہمیت کے حامل ان آثار قدیمہ کو اصل حالت میں بر قرار رکھنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔