Saturday, March 2, 2024

بھارت میں متنازعہ شہریت قانون کیخلاف مظاہرے، جھڑپیں، 3 افراد ہلاک، 20 زخمی

بھارت میں متنازعہ شہریت قانون کیخلاف مظاہرے، جھڑپیں، 3 افراد ہلاک، 20 زخمی
December 20, 2019
نئی دہلی (92 نیوز) بھارت میں متنازعہ شہریت قانون کیخلاف مظاہروں میں شدت آگئی۔ منگولورو میں پولیس اور مظاہرین میں جھڑپیں ہوئیں۔ 3 افراد ہلاک اور 20 زخمی ہوگئے۔ دارالحکومت نئی دہلی میں نماز جمعہ کے بعد ہزاروں افراد کا احتجاج کیا گیا۔ مودی حکومت اور متعصبانہ قانون کیخلاف شدید نعرے بازی کی گئی۔ بھارت میں متنازعہ شہریت قانون کیخلاف عوام کا غم و غصہ برقرار ہے۔ کرناٹکا، اترپردیش، آسام، مغربی بنگال سمیت مختلف ریاستوں میں کرفیو کے باوجود ہزاروں افراد سڑکوں پر نکل آئے۔ پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے لاٹھی چارج اور آنسو گیس کے شیل برسائے۔ دارالحکومت نئی دہلی کی تاریخی جامعہ مسجد میں نماز جمعہ کے بعد شدید احتجاج کیا گیا۔ دلتوں کی تنظیم بھیم آرمی چیف کے رہنماء چندرشیکھر آزا بھی مسلمانوں سے اظہار یکجہتی کیلئے احتجاج میں شریک ہوئے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق جھڑپوں کے بعد سو سے زائد افراد کو حراست میں لیا جاچکا ہے جبکہ متعدد اضلاع میں انٹرنیٹ سروس تاحال بند ہے۔ دوسری جانب مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بینرجی نے اقوام متحدہ کی زیر نگرانی متنازعہ قانون پر ریفرنڈم کرانے کا مطالبہ کردیا۔ ممتا بینرجی نے کہا کہ اگر عوام قانون کو مسترد کرتی ہے تو حکومت کو استعفیٰ دینا ہوگا۔ کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا کے صدر سیتارام ییچوری نے مظاہرین کیخلاف حکومتی کریک ڈاؤن کو ایمرجنسی سے بھی بدتر قراد دیا۔۔