Sunday, March 3, 2024

بھارت میں متنازعہ شہریت بل کے خلاف پُرزور احتجاج

بھارت میں متنازعہ شہریت بل کے خلاف پُرزور احتجاج
December 27, 2019
 نئی دہلی (92 نیوز) متنازعہ شہریت ترمیمی قانون کے خلاف بھارت میں احتجاج جاری ہے۔ نماز جمعہ کے بعد نئی دہلی، ممبئی، بنگلور سمیت ملک بھر میں لاکھوں افراد سڑکوں پر نکل آئے۔ بھارت میں شہریت کا متنازعہ قانون بی جے پی حکومت کو ڈبونے لگا۔ ملک گیر احتجاج شروع ہو گیا۔ مسلمانوں کی حمایت میں ہندو، دلت، عیسائی سب ایک ہو گئے۔ نئی دہلی کی جامعہ مسجد میں نماز جمعہ کے بعد احتجاج شروع ہو گیا ہے۔ ہزاروں افراد شدید سردی کے باوجود سڑکوں پر موجود ہیں۔ اس احتجاج میں دلتوں کی نمائندہ تنظیم بھیم آرمی بھی شامل ہے۔ بھارتی دارالحکومت میں مظاہرے کی وجہ سے سیکورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے۔ مظاہرین کی مسلسل ڈرونز کی مدد سے نگرانی کی جارہی ہے۔ نئی دہلی، ممبئی، اجمیر، لکھنؤ سمیت ملک بھر میں مظاہرے کیے جارہے ہیں جن میں لوگوں کی بڑی تعداد شہریت قانون کے خلاف احتجاج کر رہی ہے۔ امریکی اخبار لاس اینجلس ٹائمز نے بھارتی مسلمانوں کی حالت زار پر رپورٹ جاری کی ہے جس کے مطابق بھارت میں مسلمان شدید خوف میں مبتلا ہیں۔ وہ اپنے علاقے چھوڑنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ لاس اینجلس ٹائمز لکھتا ہے علی گڑھ یونیورسٹی میں پولیس نے طلبا پر تشدد کیا، ان پر فائرنگ کی گئی اور گرنیڈ پھینکے گئے۔ صرف یہی نہیں بلکہ پولیس نے مسلمان طلبا پر مذہبی منافرت کے جملے بھی کسے۔