Friday, January 27, 2023

بھارت میں لاک ڈاؤن میں حکومتی بدانتظامی کی رپورٹنگ پر صحافی مجرم بن گئے

بھارت میں لاک ڈاؤن میں حکومتی بدانتظامی کی رپورٹنگ پر صحافی مجرم بن گئے

نئی دہلی ( 92 نیوز) انتہا پسند ہندتوا پالیسی اور سیفران دہشتگردی پر عمل پیرا مودی سرکار نے بھارت میں ظالمانہ لاک ڈاؤن تو لگایا ہی لیکن لاک ڈاؤن کے تباہ کن اثرات پر رپورٹنگ کرنے والے صحافیوں کو بھی مجرم بنا دیا گیا ،مودی سرکار نے اظہار رائے کے جرم میں 55 صحافیوں پر مقدمات بنائے، انہیں تشدد اور دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑا۔

ہندوستان کی جھوٹی مودی سرکار سچ کیخلاف برسرپیکار ہے ۔ مودی کے وار کا 55 بھارتی صحافی بنے شکار ، مودی کی بربریت کا شکار بننے والے انڈین صحافیوں کا جرم لاک ڈاؤن میں حکومتی بدانتظامی، کوتاہیوں، کرپشن، بھوک، بے روزگاری ، افلاس کی حقیقت بتانا تھا۔

ہندوستان کے نجی ادارے رائٹس اینڈ رسکس انیلیسیز گروپ کی  کورونا لاک ڈاؤن، میڈیا پر کریک ڈاؤن" کے عنوان سے 32 صفحات پر مشتمل رپورٹ جاری ہوئی ۔ رپورٹ کے مطابق مودی نے بذریعہ لاک ڈاؤن 1 ارب 35 کروڑ آبادی کو قید، 45 کروڑ 36 لاکھ مزدور بے روزگار اور 7 کروڑ کو شدید غربت کا شکار کیا۔پھر لاک ڈاؤن کے بھیانک اثرات کو رپورٹ کرنے پر میڈیا کو نشانہ بنانا شروع کر دیا۔

رپورٹ کے مطابق ہندوستانی سپریم کورٹ نے بھی صحافتی معاملے کو نظر انداز کیا، کوئی شنوائی نہ ہوئی بلکہ بھارتی عدالت عظمی، صحافیوں پر ریاستی دباؤ، پابندیوں اور درپیش رکاوٹوں پر خاموش رہی۔

دوسری جانب صحافی زندگیاں داؤ پر لگا کر کورونا وبا کے باوجود رپورٹنگ کرتے رہے، صرف 4 مئی 2020ء کو 100 صحافی کورونا وائرس کا شکار ہوئے، رپورٹ کے مطابق بھارت میں 25 مارچ سے31 مئی تک 55 صحافی رپورٹنگ اور اظہار رائے پر نشانہ بنے، 22 کیخلاف مقدمات درج، 10 گرفتار، 9 کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

اترپردیش میں  11، مقبوضہ کشمیر میں  6، ہماچل پردیش میں 5 صحافیوں پر حملے ہوئے۔ لاک ڈاؤن میں زندہ رہنے کیلئے گھاس کھاتے دلتوں کی رپورٹنگ پر 7 صحافیوں پر مقدمات بنے۔ تامل ناڈو ، مغربی بنگال ، اڈیشہ اور مہاراشٹرا میں ایک ایک صحافی پر حملہ کیا گیا۔