Saturday, October 1, 2022

بھارت میں اقلیتوں کی عبادتگاہوں اور تعلیمی درسگاہوں پر حملے معمول، مغربی بنگال میں انتہاپسندوں کا مشنری اسکول پر حملہ

بھارت میں اقلیتوں کی عبادتگاہوں اور تعلیمی درسگاہوں پر حملے معمول، مغربی بنگال میں انتہاپسندوں کا مشنری اسکول پر حملہ
بنگال (ویب ڈیسک) بھارت میں اقلیتوں کی عبادتگاہوں اور تعلیمی درسگاہوں پر حملے معمول بن چکا ہے۔ مودی سرکار ان کے تحفظ میں مکمل طور پر ناکام ہے۔ ریاست مغربی بنگال میں بھی نامعلوم انتہا پسندوں نے ایک مشنری اسکول پر حملہ کر کے توڑ پھوڑ کی ہے۔ بھارتی ریاست مغربی بنگال میں نامعلوم انتہا پسندوں نے بلیورز چرچ اسکول میں گھس کر ہر چیز تہس نہس کر کے رکھ دی۔ مودی سرکار ایک طرف تو اقلیتوں اور ان کے اثاثوں کے تحفظ کا راگ الاپ رہی ہے جبکہ دوسری جانب انتہاپسند ہندوؤں کو کھلی چھٹی دے رکھی ہے۔ چرچ بشپ جوریا وردھان کا کہنا ہے کہ واقعہ کی ایف آئی آر درج کرا دی گئی ہے لیکن مسیحی برادری میں اس واقعہ کے بعد شدید خوف وہراس پھیل گیا ہے۔ نامعلوم انتہاپسندوں نے اسکول میں گھس کر طلباء کی کتابیں پھاڑ دیں اور اشیائے خورونوش کو ضائع کر دیا۔ فادر شنکر کا کہنا ہے کہ ایسے واقعات اب معمول بن چکے ہیں۔ امن وامان کی صورتحال برقرار رکھنا ریاستی ذمہ داری ہے جو پوری نہیں کی جا رہی۔