Sunday, November 27, 2022

بھارت : مودی کی مجوزہ لیبر اصلاحات کے خلاف کروڑوں بھارتی ملازمین ہڑتال پر چلے گئے

بھارت : مودی کی مجوزہ لیبر اصلاحات کے خلاف کروڑوں بھارتی ملازمین ہڑتال پر چلے گئے
نئی دہلی(ویب ڈیسک)بھارت بھر میں  بنکوں، ٹیلی کام اور دیگر شعبوں کے لاکھوں ملازمین تنخواہوں میں اضافے اور وزیر اعظم مودی کی مجوزہ لیبر اصلاحات کیخلاف ہڑتال پر ہیں  ہڑتال کی بنا پر سرکاری بنکوں ، بندرگاہوں اور کانکنی کے شعبوں میں کام بند رہا اور زندگی جامد ہو کر رہ گئی  ۔ تفصیلات کےمطابق ملک کی دس بڑی ٹرید  یونینز کی کال کی جانیوالی ہڑتال میں کروڑوں مزدور اور سرکاری ملازمین نے کام بند رکھا اور اپنے مطالبات کے حق میں احتجاجی ریلیاں منعقد کیں، ہڑتال کی وجہ سےریلوے ، بندرگاہوں اور بنکاری سمیت کئی شعبے متاثر ہوئے ۔ مزدوروں کے مطالبات میں کم سےکم اجرت میں اضافہ، لیبر قوانین کا   نفاذ، اور نجکاری کی مخالفت شامل ہے  کارکنوں کا کہنا ہے کہ حکومت خسارے میں جانیوالی کارپوریشنیں اور ادارے بند کر کے انہیں فاقوں کا شکار کرنا چاہتی ہے، کارکن کم ازکم ماہانہ اجرت اٹھارہ ہزار روپے جبکہ پنشن تین ہزار روپے کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں ۔ آل انڈیا ٹرید یونین کانگرس کے سیکرٹری رام کرشن پوندا کہتے ہیں حکومت مزدوروں سےنہیں بلکہ امبانی اور ادانی سے بات کرتی ہے اور اسے مزدوروں نہیں مالداروں کے مفادات کا خیال ہے  ۔ ہڑتال کے موقع پر کولکتہ، دہلی،  اڑیسہ  ،ممبئی ،بنگلوروسمیت کئی علاقوں میں مکمل ہڑتال  رہی ، بعض علاقوں میں ٹرین سروس بھی بند رہی۔