Friday, September 30, 2022

بھارت : بابری مسجد کی شہادت اورانصاف کے مندروں کا مسلمانوں کےساتھ کیا گیا کھلواڑ

بھارت : بابری مسجد کی شہادت اورانصاف کے مندروں کا مسلمانوں کےساتھ کیا گیا کھلواڑ
ایودھیا(ویب ڈیسک)بابری مسجد کا تنازع کب اور کیوں کھڑا ہوا ،بابری مسجد کے انہدام کے لئے کب مہم شروع ہوئی اور بھارت میں  انصاف کے مندروں نے مسلمانوں کے ساتھ کیا کیا کھلواڑ کیا اس کا تفصیل سے ذکرکرتے ہیں ۔ تفصیلات کےمطابق چھبیس جنوری انیس سو پچاس  کو آزاد بھارت نے ایک نیا آئین اختیارکیا آئین میں یہ بات طے پائی کہ پندرہ اگست انیس سو سینتالیس کو جو عبادت گاہ جس حالت میں تھی اسے جوں کا توں تسلیم کر لیا جائے گا لیکن بابری مسجد کو اس سےالگ رکھا گیا کیونکہ آئین کے نفاذ سے محض ایک مہینے قبل ایودھیا کے کچھ سادھوؤں نے شہر کی چار سوبرس پرانی بابری مسجد کے منبر پر ہندوؤں کے دیوتا بھگوان رام کی مورتی رکھ دی تھی ریاستی حکومت اور مقامی انتظامیہ نے بجائے مورتی ہٹانے کے مسجد پر تالہ لگا دیا مسلمانوں نے قانون ہاتھ میں لینے کے بجائے دل بڑا کرکے عدالت کے فیصلے کا انتظار کیا۔ انیس سو چھیاسی میں عدالتی حکم پر تالا کھولا گیا اور ضلعی  عدالت کی جانب سے ہندوؤں کو متنازع مقام پر پوجا کی اجازت دی گئی،مسلمان خاموش رہےانہوں نے دل بڑاکرکے پھر عدالت سے ہی انصاف مانگا انیس سو نواسی میں  بابری مسجد کی زمین پرہندوئوں کا بڑا اجتماع ہواپھر بھی مسلمان پر امن رہےلیکن ہندو انتہا پسند آگے سے آگے ہی بڑھتے رہےانیس سو بانوے میں مسجد شہید کردی گئی مسلمانوں نے احتجاج کیا مگر عدالتوں سے انصاف کی امید رکھی۔ مگر اکتوبر دو ہزار دس میں الہ آباد ہائیکورٹ نے فیصلہ دیا تو  تو مسلمانوں کو احساس ہوا  عدالتوں میں بھی ان سے دھوکہ ہوا ہے  بھارتی عدلیہ پر سے مسلمانوں کا اعتماد اٹھ گیا آج ایک بار پھر کہاجارہا ہے کہ مسلمان دل بڑا کریں اور اپنی مرضی سے بابری مسجد کی تمام زمین یعنی اپنے حصہ کا ایک تہائی ٹکڑا بھی شاندار رام مندر کی تعمیر کے لئے ہندوئوں کے حوالے کردیں ۔ مسلمان آخر اپنادل کتنا بڑا کریں؟ کب تک بڑا کریں؟؟ دل زیادہ بڑا ہوتاہے تو پھٹ جاتا ہے مسلمانوں کا دل خون کے آنسو رو رہا ہے دہلی کا اسلم بھورے جسے عدلیہ پر پورا اعتماد تھاجو بابری مسجد کا مقدمہ لے کر انیس سو بانوےمیں سپریم کورٹ میں گیا تھا جس نے ملک کی سب سے بڑی عدالت سے انصاف کی فریاد کی تھی، فیصلہ آنے پر اس کا دل ٹوٹ گیا۔ اسلم بھورے کے سینے میں درد اٹھا اور اگلے دن اس کے دل نے جواب دے دیا اور  اسلم بھورے بابری مسجد بابری مسجد میں نماز پڑھنے کی حسرت لئے اس دار فانی سے کوچ کرگیا۔