Tuesday, November 29, 2022

بھارتی سائنسدانوں نے بھی نیشنل ایوارڈز حکومت کو واپس کر دیے

بھارتی سائنسدانوں نے بھی نیشنل ایوارڈز حکومت کو واپس کر دیے
نیو دہلی (ویب ڈیسک) بھارت میں اقلیتوں کے ساتھ ناروا سلوک کے باعث مودی حکومت کے خلاف نفرت بڑھنے لگی۔ ادیبوں، فلمسازوں کے بعد سائنس دان بھی حکومت کے خلاف کھڑے ہو گئے ہیں۔ نامور بھارتی سائنسدان پی ایم بھرگوا نے پدما بھوشن واپس کرنے کا اعلان کر دیا ہے جبکہ ایک سو پینتیس سائنسدانوں نے اقلیتوں سے ناروا سلوک کے خلاف آن لائن پٹیشن پر دستخط کر دیئے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق مودی کے کالے کرتوتوں کے خلاف بھارتی سائنسدان بھی اٹھ کھڑے ہوئے۔ سنٹر فار سیلولر اینڈ مالیکیولر بیالوجی کے بانی ڈائریکٹر پی ایم بھرگوا نے پدما بھوشن ایوارڈ واپس کرنے کا اعلان کردیا ہے جو انہیں 1986ءمیں دیا گیا تھا۔ پدما بھوشن بھارت کا تیسرا بڑا سول اعزاز ہے۔ پی ایم بھرگوا کا کہنا ہے کہ انہیں سائنس کے میدان میں خدمات پر سو سے زائد ایوارڈ ملے اور پدما بھوشن کی اپنی اہمیت ہے مگر اب مجھے ان میں کوئی دلچسپی نہیں رہی کیونکہ حکومت مذہبی عدم برداشت کو بڑھاوا دے رہی ہے اور امید ہے نوجوان سائنسدان بھی اس پر آواز اٹھائیں گے۔ 135 سینئر سائنسدانوں نے بھی احتجاج میں حصہ لیتے ہوئے صدر پرناب مکھرجی کے نام ایک آن لائن پٹیشن شائع کی ہے۔ گزشتہ روز بھی ایک سو سات بھارتی سائنسدانوں نے مذہبی عدم برداشت کے خلاف تحریری طور پر احتجاج کیا تھا جبکہ ادیبوں، شاعروں اور فلم سازوں کی بڑی تعداد اپنے ایوارڈ واپس کر چکی ہے۔