Thursday, January 20, 2022
براہراست ٹی وی براہراست نشریات(UK) آج کا اخبار English News
English News آج کا اخبار
براہراست ٹی وی براہراست نشریات(UK)

بھارتی ریاست گجرات میں قتل کئے گئے 4 ہزار مسلمانوں کو انصاف نہ مل سکا

بھارتی ریاست گجرات میں  قتل کئے گئے 4 ہزار مسلمانوں کو انصاف نہ مل سکا
February 27, 2018

نیو دہلی (92 نیوز) بھارتی ریاست گجرات میں ہونے والے بدترین مسلم کش فسادات کو 16 برس بیت گئے ۔ گھروں میں زندہ جلائے اور بیدردی سے قتل کئے گئے 4 ہزار سے زائد مسلمانوں کے ورثا کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہونے کا ڈھنڈورا پیٹنے والے بھارت میں انصاف نہ مل سکا ۔
27فروری 2002 وہ بدقسمت دن ہے جب بھارتی ریاست گجرات میں مسلمانوں پر قیامت صغریٰ برپا کر دی گئی ۔
ناکردہ گناہوں کی پاداش میں 4 ہزار سے زائد مسلمانوں کو نہ صرف زندہ جلایا گیا بلکہ ان کے سر بھی قلم کئے گے جن میں سینکڑوں کی تعداد میں بچے، بزرگ اور خواتین بھی شامل تھیں ۔
گجرات میں مسلمانوں کی نسل کشی سوچے سمجھے منصوبے کے تحت کی گئی ۔ اس سازش کے پیچھے اس وقت کے وزیر اعلیٰ اور موجودہ وزیر اعظم نریندر مودی اور اس وقت کے گجرات کے وزیر داخلہ اور بی جے پی کے موجودہ صدر امیت شاہ کا شیطانی دماغ تھا ۔
27 فروری کو گوددھرا ریلوے سٹیشن پر کھڑی سابرمتی ایکسپریس کو ہندو انتہاپسندوں نے آگ لگائی جس میں 100 کے قریب ہندو یاتری ہلاک ہوئے جس کا الزام مسلمانوں پر لگا دیا گیا ۔
فسادات اس قدر خوفناک تھے کہ مرکز میں برسراقتدار بی جے پی کے وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی کو بھی مداخلت کرنی پڑ گئی لیکن نریندر مودی باز نہ آیا ۔
نریندر مودی کو مختلف تنظیموں رہنماؤں اور عالمی لیڈروں نے کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ۔ امریکہ نے نریندر مودی کو ویزا جاری کرنے پر پابندی لگا دی ۔
2011میں بھارتی عدالت میں مودی کے خلاف ثبوت پیش کئے گے کہ اس قتل عام کا مودی نے حکم دیا تھا اور پولیس کو ہندو انتہا پسندوں کے خلاف ایکشن لینے سےروکا تھا ۔
عدالت میں مودی کو سزا تو نہ ملی لیکن آج بھی اسی نام نہاد سیکولر بھارت کا وزیراعظم بن کر بیٹھا ہے ۔