Friday, February 3, 2023

بلوچستان کے بیشتراضلاع خشک و قحط سالی کی لپیٹ میں آگئے

بلوچستان کے بیشتراضلاع خشک و قحط سالی کی لپیٹ میں آگئے
کوئٹہ ( 92 نیوز)بلوچستان کے 10 سے زائد اضلاع خشک سالی اور قحط کی لپیٹ میں آگئے، حکومت کی طرف سے کوئی اقدامات نہ کیے جانے پر لوگ نقل مکانی پرمجبور  ہو گئے ، باغات خشک ہوگئے۔صوبائی وزیراطلاعات ظہور بلیدی کا کہنا تھاکہ  صوبائی حکومت اس معاملے سے نمٹے گی۔ خشک سالی اور قحط نےقدرتی دولت سے مالا مال بلوچستان کےبیشترا ضلاع کو اپنی لپیٹ میں لے لیا،ہرے بھرے کھیت کھلیان اور باغات دیکھتے ہی دیکھتے اجڑ گئے ۔ طویل عرصے سے بارشیں نہ ہونے کے باعث خاران،چاغی ،نوشکی ،واشک اور دیگر اضلاع  میں قحط کی صورتحال ہے۔جس کے باعث لوگوں کی بڑی تعداد نقل مکانی پر مجبور ہو گئی ۔ چاغی میں خشک سالی سے چھ ہزار سے زائد کسان اور ڈیڑھ لاکھ جانور متاثر ہوئے،جبکہ نوشکی میں قحط کے باعث بچے انتہائی کمزور ہوکر موذی امراض کا شکار بن رہے ہیں، کوئٹہ کی ہنہ جھیل بھی مکمل طورپر خشک ہو گئی۔ صوبائی وزیراطلاعات ظہور بلیدی نے 92 نیوز سے گفتگوکرتے ہوئے کہنا تھا کہ بارشیں کم ہونے سے قحط سالی کا سلسلہ شروع ہوا،ڈپٹی کمشنرز کو مراسلہ ارسال کردیا گیا، خشک سالی سے نمٹنے کے لیے وفاقی حکومت سے بھی مدد مانگی ہے۔ دوہزارسات میں بھی بلوچستان میں قحط کی وجہ سے بڑے پیمانے پرجانی اورمالی  نقصان ہوا تھا۔