Tuesday, November 29, 2022

بلوچستان کی سرزمین سنگلاخ پہاڑوں اور ثقافتوں میں اپنی ایک پہچان رکھتی ہے

بلوچستان کی سرزمین سنگلاخ پہاڑوں اور ثقافتوں میں اپنی ایک پہچان رکھتی ہے

 کوئٹہ (92 نیوز) بلوچستان کی سرزمین سنگلاخ پہاڑوں ، ریگستانوں اور ثقافتوں میں اپنی ایک پہچان رکھتی ہے۔ یہ صدیوں پرانی قدیم قیمتی نوادرات کو بھی جنم دے چکی ہے۔

 بلوچستان میں جہاں قدرت کے حسین نظارے دیکھنے والوں کو حیران کر دیتے ہیں وہیں یہ صدیوں پرانی تہذیب کا امین صوبہ بھی ہے۔

کوئٹہ سے تین گھنٹے کی مسافت پر ضلع بولان سے پانچ کلومیٹر دور دریائے بولان کے کنارے آباد گاؤں میں سات ہزار سال قبل مسیح کے زمانہ کی آبادی کے آثار ملے ہیں۔ یہ آثار 1974 میں فرانسیسی ماہرینِ آثارِ قدیمہ کو کھدائی کے دوران ملے جس سے یہ بات ثابت ہو گئی ہے کہ بلوچستان میں پتھروں کے دور میں بھی آبادی تھی۔

 بلوچستان کے علاقے سنی شوران کو بھی قدیم تہذیب کا مسکن ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ یہاں بلوچ جنگجو سرداروں کا 5 سو سال پرانا قبرستان موجود ہے جہاں مدفون لوگوں میں زیادہ تر قبریں رند قبیلے کے ان سرداروں کی ہیں جو مختلف جنگوں میں شہید ہو ئے۔

 مقبر وںپر اس دور کے کاریگروں نے مٹی میں اونٹی کا دودھ ملا کر کمال مہارت سے جنگی حالت کی عکاسی کی۔ یہاں آباد افراد کہتے ہیں کہ اس دور میں لوگوں کے قد 8 سے 10 فٹ تھے۔

 سیوی یا سبی جس نے تاریخ کے اونچے نیچے دور بہت دیکھے ہیں۔ کئی حاکم اس شہر سے گزرے اور کئی حاکم اس شہر کے بادشاہ بنے۔ اس شہر کی بنیاد آریہ سیوا قوم نے ڈالی تھی۔ میر چاکر رند نے اس شہر پہ 35 سال تک حکومت کی اور اپنا ایک قلعہ بھی اسی شہر میں تعمیر کروایا تھا، جو آج بھی موجود ہے۔

 قلات کا تاریخی شاہی محل بھی 80 سال قدیم ہے جو ریاست قلات کے نواب میر احمد یار خان کی عظمت کا زندہ نشان ہے۔ 1930 میں میری قلات زلزلے میں منہدم ہوا تو شاہی محل کی بنیاد رکھی گئی ۔

 بحری جہاز کے مشابہہ یہ محل تاریخ کے کئی ادوار کے اتارچڑھاو کا گواہ ہے ۔ قیام پاکستان سے قبل مسلم لیگ کی تنظیم نو کے لئے خان آف قلات کی دعوت پر آ ئے محمد علی جناح کو ان کے وزن کے مطابق سونے چاندی اور جواہرات دیئے گئے ۔ شاہی محل میں قائداعظم کے زیرے استعمال رہنے والا کمرہ اور اس میں مو جود نادر ونایاب اشیا ءآج بھی محفوظ ہیں۔

 سیکرٹری ثقافت و سیاحت کہتے ہیں کہ بلوچستان اپنے دامن میں دنیا کا قدیم ترین تہذیبی ورثہ اور ثقافت سموئے ہوئے ہے ۔ محکمہ صوبے کے تاریخی ورثے کو زندہ رکھنے اور عوام کو قدیم تہذیب و تمدن، تاریخ، رہن سہن، مقامی فن و ہنر اور نامور ہستیوں کے حوالے سے آگاہی کے لئے اقدامات کر رہی ہے۔

 بدقسمتی سے گذشتہ حکومتوں کی جانب سے ثقافتی ورثے اور قدیم نوادرات کو محفوظ رکھنے کے لئے عملی اقدامات نہیں کیے گئے۔ اس کے برعکس محکمہ ثقافت سیاحت و آرکائیو کو موجودہ حکومت کی بھر پور سرپرستی اور تعاون حاصل ہے۔