Tuesday, November 29, 2022

بلوچستان میں الیکشن نہیں سلیکشن ہوئی تھی : عبدالحفیظ پیرزادہ

بلوچستان میں الیکشن نہیں سلیکشن ہوئی تھی : عبدالحفیظ پیرزادہ
اسلام آباد(92نیوز)تحریک انصاف کے وکیل عبدالحفیظ پیرزادہ نے عام انتخابات میں منظم دھاندلی سےمتعلق انکوائری کمیشن میں اپنے دلائل میں دعوٰی کیا ہے کہ بلوچستان میں انجینئیرڈ الیکشن ہوئے،عبدالحفیظ پیرزادہ کہتے ہیں کہ  بلوچستان میں کئی پولنگ اسٹیشنز پر ووٹرز تھے نہ انتخابی عملہ اس لئے بلوچستان میں الیکشن نہیں سلیکشن ہوئی۔ تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس ناصرالملک کی سربراہی میں انکوائری کمیشن کے اجلاس میں دلائل دیتے ہوئے تحریک انصاف کے وکیل عبدالحفیظ پیرزادہ نے کہا کہ بلوچستان میں انجینئیرڈ الیکشن کرائے گئے،چیف جسٹس نے ان سے استفسار کیا کہ آپ کیسے کہہ رہے ہیں کہ بلوچستان میں انجینئیرڈ الیکشن ہوئے،ہمیں اس حوالے سے کوئی میٹریل بھِی پیش کریں،عبدالحفیظ پیرزادہ نے کہا کہ بلوچستان میں کئی پولنگ اسٹیشنز پر ووٹرز تھے نہ انتخابی عملہ،بلوچستان میں الیکشن نہیں سلیکشن ہوئی، جسٹس اعجاز افضل نے کہا کہ اگر کہیں پر ووٹرز نہیں آئے تو کیا اسے الیکشن کمیشن کی غلطی کہا جا سکتا ہے، حفیظ پیرزادہ نے کہا کہ بلوچستان میں چند سو ووٹ لینے والے بھی انتخابی نمائندے منتخب ہوگئے، این اے 125 میں ڈسٹرکٹ الیکشن کمشنر نے خود سے 50ہزار بیلٹ پیپرز کیوں بڑھائے،حفیظ پیرزادہ نے کہا کہ این اے 125کے ریٹرننگ افسر نے 61ہزار800بیلٹ پیپرز مال خانے میں جمع نہیں کرائے،چیف جسٹس نے کہا کہ آپ نے این اے 125کا ٹربیونل کا فیصلہ جمع کرانے کی بات کی تھی،حفیظ پیرزادہ نے کہا کہ الیکشن ٹربیونل نے سعد رفیق کو ڈی سیٹ کیا،فارم 14اور 15 کا موازنہ کرنا ریٹرننگ افسران کی ذمہ داری تھی۔ حفیظ پیرزادہ نے کہا کہ این اے 34کے تھیلوں سےملنے والے فارم 15بھی خالی نکلے،تھیلوں سے ملنے والے اور ریٹرننگ افسران کے پاس موجود فارم 15 میں تضاد ہے،حفیظ پیرزادہ نے کہا کہ این اے 125 میں ایک لاکھ 20ہزار اضافی بیلٹ پیپرز کے ذمہ دار ریٹرننگ افسر اور متعلقہ ڈسٹرکٹ الیکشن کمشنر ہیں۔ این اے 125 میں فارم 15 کی گمشدگی کی شرح 75فیصد ہے،این اے 125کے ووٹوں کے 30تھیلے بھی غائب ہیں، این اے 119کے پولنگ اسٹیشن پر 100فیصد پولنگ ہوئی،چیف جسٹس نے کہا کہ آپ جس پولنگ اسٹیشن کا ذکر کر رہے ہیں وہاں 603رجسٹرڈ ووٹرز تھے 561ووٹ پول ہوئے،حفیظ پیرزادہ نے کہا کہ فارم 15 میں تضاد اور خامیوں کی نشاندہی تحریری طور پر کروں گا،چیف جسٹس نے کہا کہ آپ فارم 15 میں خامیوں اور تضاد کی رپورٹ ایک دو روز میں دے دیں،حفیظ پیرزادہ نے کہا کہ ریٹرننگ افسران نے تسلیم کیا ہے بیلٹ پیپرز کی تعداد میں تعین میں انہیں کوئی ہدایات نہیں ملیں،بیلٹ پیپرز کا تقدس ہے اس کے حساب کتاب میں ناکامی ہوئی۔ ریٹرننگ افسران نے بیلٹ پیپرز کی تعداد کے تعین میں اپنے اپنے فارمولے لگائے،ریٹرننگ افسران کے تعین کردہ بیلٹ پیپرز میں الیکشن کمیشن حکام نے بھی ردوبدل کیا،ریٹرننگ افسران نے کسی قانون کے بغیر بیلٹ پیپرز پریذائیڈنگ افسران میں تقسیم کیے، حفیظ پیرزادہ نے کہا کہ ریٹرننگ افسران نے بڑی تعداد میں بیلٹ پیپرز اپنے پاس رکھے جو ناکامی ہے، الیکشن کمیشن نے بیلٹ پیپرز کا تقدس مجروح کرکے تنازع پیدا کیا، حفیظ پیرزادہ نے کہا کہ 5فیصد سے زائد اضافی بیلٹ پیپرز نہیں چھاپے جا سکتے تھے،پنجاب میں بیلٹ پیپرز کی تعداد کا تعین ریٹرننگ افسران نے کیوں کیا، الیکشن کمیشن قانون کے مطابق انتخابات کرانے میں ناکام رہا، وکیل پی ٹی آئی نے کہا کہ اگر چیزوں کو درست نہ کیا گیا تو الیکشن کمیشن غیر موثر ہو جائےگا۔ انتخابی مواد محفوظ نہ رکھنا فوجداری جرم ہے، ریٹرننگ افسران نے بیلٹ پیپرز کا تقدس پامال کیا،قانون کے مطابق انتخابی ریکارڈ کو محفوظ نہ رکھنے پر دو سال سزا ہے۔ غفلت پر کتنے پریذائیڈنگ افسران کو سزا ہوئی، کتنے کو شوکاز نوٹس جاری کیا گیا،چیف جسٹس نے کہا کہ پریذائیڈنگ افسران کے خلاف کارروائی کے لیے ثبوت ہونا چاہئیں۔