Wednesday, November 30, 2022

بلوچستان : ریاست کے خلاف لڑنے والوں کو ہتھیار ڈالنے پر عام معافی دینے کا فیصلہ

بلوچستان : ریاست کے خلاف لڑنے والوں کو ہتھیار ڈالنے پر عام معافی دینے کا فیصلہ
کوئٹہ(92نیوز)بلوچستان میں ریاست کے خلاف لڑنے والوں کو ہتھیار ڈالنے کی صورت میں عام معافی دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ مسلح کارروائیاں ترک کرنے والوں کو مالی مدد بھی فراہم کی جائے گی۔ تفصیلات کے مطابق یہ اہم فیصلہ کوئٹہ میں وزیراعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کی زیر صدارت ایپکس کمیٹی کے اجلاس میں کیا گیا۔ کمانڈر سدرن کمانڈ لیفٹیننٹ جنرل ناصر خان جنجوعہ، صوبائی وزیر داخلہ سرفراز بگٹی، چیف سیکریٹری، صوبائی سیکریٹری داخلہ، آئی جی ایف سی، آئی جی پولیس اور جنرل کمانڈنگ آفیسرز نے بھی اجلاس میں شرکت کی۔ اجلاس کے بعد جاری ہونے والے سرکاری بیان کے مطابق ایپکس کمیٹی نے بلوچستان میں امن وامان کو مستقل بنیادوں پر قائم کرنے کیلئے پرامن بلوچستان مفاہمتی پالیسی پر عملدرآمد کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس پالیسی کے تحت ریاست کے خلاف مسلح کارروائیاں ترک کرنے والوں کو نہ صرف عام معافی دی جائے گی بلکہ حکومت ان کی بحالی کیلئے مالی مدد بھی کرے گی۔ اجلاس میں دہشتگردی کی کارروائیوں میں استعمال ہونے والے وسائل اور فنڈز کی تحقیقات کرانے کا بھی فیصلہ کیا گیا یہ تحقیقات ایف آئی اے، کسٹم، نیب اور پولیس کے ذریعے کرائی جائیں گی۔ تحقیقات کے ذریعے دہشتگردی میں ملوث پس پردہ عناصر کو عوام کے سامنے لایا جائے گا اور انہیں سزا دلائی جائے گی۔ ایپکس کمیٹی کے اجلاس میں دہشتگردی میں ملوث عناصر اور کالعدم مذہبی دہشتگردوں کے خلاف کارروائیوں کو مزید مؤثر بنانے پر بھی اتفاق کیا گیا۔ ایپکس کمیٹی نے مدارس کی رجسٹریشن کا عمل محکمہ انڈسٹریل کی بجائے محکمہ تعلیم سے کرانے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔  اجلاس میں امن وامان کی صورتحال، متعلقہ اداروں کی تجزیاتی رپورٹوں اور سفارشات کا جائزہ لیا گیا اور اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا گیا کہ متعلقہ اداروں کے باہمی اشتراک سے عوام میں احساس تحفظ پیدا ہوا ہے۔