Friday, September 30, 2022

بلوچستان ، خواتین بھی جنرل نشستوں کیلئے الیکشن لڑنے کو تیار

بلوچستان ، خواتین بھی جنرل نشستوں کیلئے الیکشن لڑنے کو تیار
کوئٹہ (92 نیوز) بلوچستان میں عام انتخابات2018ء کیلئے خواتین کی بھی بڑی تعداد جنرل نشستوں کیلئے میدان میں اتریں تاہم الیکشن کمیشن اور پھر اپیلٹ ٹربیونلزمیں کاغذات نامزدگی مسترد کئے جانے پر خواتین امیدوار مایوسی کا شکار ہیں۔ گزشتہ پانچ سالوں کے دوران بلوچستان اسمبلی میں پہلی خاتون اسپیکر راحیلہ حمید درانی اور پھر خاتون مشیر خزانہ رقیہ سعید ہاشمی کے اہم منصب پر تقرر نے صوبے کی خواتین میں بھی سیاست کے میدان میں اپنا لوہا منوانے کا عزم بیدار کیا ۔ یہی وجہ ہے کہ عام انتخابات 2018ء کیلئے بڑی تعداد میں خواتین امیدواروں نے جنرل نشستوں کیلئے اپنے کاغذات نامزدگی جمع کرائے۔ خواتین امیدواروں نے کہا کہ خواتین کو پسماندگی کے اندھیروں میں دھکیلنے والی سوچ اب ختم ہو چکی ہے۔ الیکشن کمیشن اور پھر ایپلٹ ٹریبونلز میں جہاں کئی خواتین اپنے کاغذات نامزدگی مسترد کئے جانے پر افسردہ اور مایوس نظر آئیں تو وہیں کاغذات نامزدگی منظور ہونے پر خواتین نے اپنے علاقوں میں مسائل کے حل کا عہد بھی کیا۔ پہلی بار بڑی تعداد میں بلوچستان سے خواتین کا جنرل نشستوں پر انتخاب لڑنے کا یہ فیصلہ یقینا مثبت سوچ کاثبوت ہے۔ تاہم دیکھنا یہ ہوگا ایوان میں پہنچنے والی یہ خواتین صوبے کی پسماندگی کو دور کرنے کیلئے کیا اقدامات کرتی ہیں۔