Thursday, December 8, 2022

بلدیاتی انتخابات: نتائج تحریک انصاف کیلئے پریشان کن، تخت لاہور پر مسلم لیگ ن کا راج برقرار

بلدیاتی انتخابات: نتائج تحریک انصاف کیلئے پریشان کن، تخت لاہور پر مسلم لیگ ن کا راج برقرار
لاہور (نائنٹی ٹو نیوز) تخت لاہور پر مسلم لیگ ن کا راج برقرار ہے۔ بلدیاتی انتخابات میں آنے والے نتائج یقینی طور پر تحریک انصاف کے لئے کافی حد تک پریشان کن ہیں۔ نیا پاکستان بنانے کی دعویدار جماعت پاکستان تحریک انصاف نے دو ہزار تیرہ کے عام انتخابات سے قبل واضح اکثریت سے جیتنے کے دعوے کیے تاہم واضح اکثریت نہ ملنے پر دھاندلی کا شور مچاتے ہوئے اسلام آباد پر چڑھائی کی گئی۔ این اے ایک سو بائیس کے ضمنی الیکشن میں بھی کامیابی مقدر نہ بنی تو لیگی امیدوار کی کامیابی کو ایمپائر کی آشیرباد کے ساتھ نتھی کر دیا۔ کئی برسوں کے انقطاع کے بعد پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کے معرکے کے پہلے مرحلے میں بھی تحریک انصاف کے دعوے حقیقت کا روپ نہ دھار سکے۔ سوشل میڈیا اور میڈیا کی ہوا کے سہارے پی ٹی آئی کی پتنگ کو اڑانے کی کوشش کی گئی تاہم پنجاب میں انتخابی معرکے کے پہلے مرحلے میں بھی نیا پاکستان بنانے کا دعویٰ اور نعرہ کارگر ثابت نہ ہو سکا۔ تمام جماعتوں کے بڑے بڑے دعوے اس وقت دھرے کے دھرے رہ گئے جب وہ مسلم لیگ ن کے قلعہ لاہور میں کوئی بھی دراڑ نہ ڈال سکے۔ پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی رہائشگاہ زمان پارک سے پی ٹی آئی کو شکست کا سامنا کرنا پڑا جبکہ جماعت اسلامی اپنے مرکز منصورہ کے علاقے میں بھی اپنا چیئرمین منتخب نہ کروا سکی۔ مزنگ میں اپنے سیاسی سفر کا آغاز کرنے والے پی ٹی آئی کے رہنما میاں اسلم اقبال کا بھائی میاں نعیم ہار گیا جبکہ ایس ایم ظفر کے بیٹے عاصم ظفر کا فتح کا خواب بھی چکنا چور ہو گیا۔ مسلم لیگ ن نے دوتہائی اکثریت حاصل کرتے ہوئے لاہور کے قلعہ پر اپنا تسلط برقرار رکھا۔