Thursday, December 1, 2022

برطانوی کابینہ میں بریگزٹ پر یورپی یونین سے ڈیل کا مسودہ منظور

برطانوی کابینہ میں بریگزٹ پر یورپی یونین سے ڈیل کا مسودہ منظور
لندن (92 نیوز) برطانوی کابینہ میں بریگزٹ پر یورپی یونین سے ڈیل کا مسودہ منظور ہو گیا تاہم 9 اہم ترین وزرا کی جانب مسودے کی حمایت سے انکار بھی سامنے آیا۔ یورپی یونین سے برطانیہ کے انخلا کے لیے بریگزٹ کے معاملے پر اہم پیشرفت ہوئی ۔ وزیر اعظم ٹریزا مے نے مذاکرات کیلئے اپنا مجوزہ پلان کابینہ کے سامنے پیش کیا جسے منظور کرلیا تاہم تجارت ،ہیلتھ ،ٹرانسپورٹ ،داخلہ امور کے وزرا سمیت انکے 9 ساتھیوں نے مجوزہ پلان کی مخالفت کر دی ۔ ٹریزا مے اپنے سینئر ساتھیوں کو منانے کی کوشش کرتی رہیں لیکن بے سود ، جس کے بعد وزیر اعظم کے خلاف پارلیمنٹ میں تحریک عدم اعتماد کے امکانات روشن ہوگئے ہیں۔ وزیراعظم ٹریزا مے کا پانچ گھنٹے جاری رہنے والے کابینہ اجلاس میں کہنا تھا کہ ڈیل کے بعد برطانیہ کو اپنی سرحدوں پر مکمل کنٹرول مل جائے گا۔ اس کے ذریعے نئی نوکریاں، کاروبار اور نئے قوانین بھی متعارف کروائے جاسکتے ہیں۔ ٹریزا مے نے بریگزٹ پر دوبارہ ریفرنڈم کرانے کے مطالبے کو بھی مسترد کردیا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت عوامی رائے کا احترام کرتی ہے۔ لیبر پارٹی کے سربراہ اور قائد حزب اختلاف جریمی کوربن کا کہنا تھا کہ معاہدہ برطانیہ کے مفاد میں نہیں ہو گا۔ ا س سے  محض وزیراعظم کی خواہش پوری ہو گی۔ آئر لینڈ کے وزیر اعظم نے بھی محتاط انداز میں مجوزہ بریگزٹ  پلان کو خوش آمدید کہا جائے گا۔ یورپی یونین کے چیف مذاکرات کار مائیکل بارنیز نے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ  بریگزٹ پر فیصلہ کن  پیش قدمی کا سلسلہ جاری رہے گا۔ آئرش بارڈر کا مسئلہ  بھی بہترین تجاویز کے ساتھ حل کرلیں گے۔ 585 صفحات پر مبنی یہ مجوزہ معاہدہ شائع کر دیا گیا ہے جس کے تحت برطانیہ میں مقیم یورپی شہریوں اور یورپ میں رہنے والے برطانوی شہریوں کے حقوق کا تحفظ کیا جائے گا۔ اس میں دیگر شرائط اور معاملات کے ساتھ برطانیہ کی جانب سے یورپی یونین کو 39 ارب ڈالر ادا کئے جائیں گے۔ حکومت کو اب یہ بل منظوری کیلئے پارلیمنٹ میں پیش کرنا ہو گا۔ منظوری کے بعد برطانیہ یورپی یونین سے اگلے برس انتیس مارچ کو مکمل طور پر علیحدہ ہو جائے گا۔ وزیراعظم کی اپنی جماعت کنزرویٹو پارٹی بھی اس معاملے پر دو دھڑوں میں تقسیم ہے۔ ڈیل کی مخالفت کرنے والوں نے الزام عائد کیا کہ وزیراعظم نے یورپی یونین کے سامنے گھٹنے ٹیک دیے ہیں۔