Sunday, October 2, 2022

برطانوی حکومت کو لکھے گئے خط پر کوئی ایکشن نہیں ہونے جا رہا ، رانا ثنا اللہ کا دعویٰ

برطانوی حکومت کو لکھے گئے خط پر کوئی ایکشن نہیں ہونے جا رہا ، رانا ثنا اللہ کا دعویٰ
 لاہور (92 نیوز) رہنما ن لیگ رانا ثناءاللہ نے بڑا دعویٰ کرتے ہوئے کہا برطانوی حکومت کو لکھے گئے خط پر کوئی ایکشن نہیں ہونے جا رہا۔ لاہور ہائیکورٹ میں جسٹس علی باقر نجفی کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے رہنما ن لیگ رانا ثناءاللہ کی نیب تحقیقات کے خلاف درخواست پر سماعت کی۔ وکیل صفائی نے عدالت میں موقف اختیار کیا کہ چیئرمین نیب ازخود اثاثوں کے حوالے سے نوٹس نہیں لے سکتے تھے جبکہ نیب پراسیکیوٹر نے موقف اختیار کیا کہ رانا ثنااللہ کی رہائی سے قبل ہی اثاثوں کی تحقیقات شروع کر رکھی تھیں۔ عدالت نے استفسار کیا کہ کیا تحقیقات کرنے میں کوئی قانونی قدغن موجود ہے؟ تحقیقات تو صرف اسی وقت نہیں کی جا سکتیں جب کسی معاملے میں عدالت سزا سنا چکی ہو۔ عدالت نے دلائل سننے  کے بعد نیب کو ہراساں کرنے سے روک دیا اور جواب طلب کرتے ہوئے سماعت 25 مارچ تک ملتوی کر دی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے رانا ثناءاللہ کا کہنا تھا کہ انکے ڈکلیئرڈ اثاثے کے علاوہ کوئی اثاثہ نہیں ۔ نواز شریف کو وطن واپس لانے کے لیے لکھے گئے حکومتی خط کی اہمیت ردی کے ٹکڑے سے زیادہ نہیں۔ رانا ثناءاللہ کا مزید کہنا تھا کہ شہباز شریف کی واپسی نواز شریف کی صحت کی وجہ سے رکی ہوئی ہے، وہ اپنے بڑے بھائی کی صحت سے متعلق تسلی کے بعد ہی واپس آئیں گے۔