Monday, December 5, 2022

برطانوی جیل سے قیدی کی پاکستان منتقلی کے عدالتی حکم پر عملدرآمد نہ کرنے پر عدالت برہم

برطانوی جیل سے قیدی کی پاکستان منتقلی کے عدالتی حکم پر عملدرآمد نہ کرنے پر عدالت برہم
اسلام آباد ( 92 نیوز ) اسلام آباد ہائیکورٹ  میں  برطانوی جیل  میں قید طارق عزیز کو پاکستان کی جیل میں منتقل کرنے کے  کیس کی سماعت کے دوران عدالت برہم ہو گئی ۔ جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دئیے کہ نواز شریف جانا چاہے تو دو دنوں میں چلا جائے ،برطانیہ سے پاکستانی شہری کو کیسے واپس لانا ہے ،طے کرنے میں  چھ سال لگ گئے۔ریمارکس میں کہا کہ سیکرٹری داخلہ،سیکرٹری خارجہ اور برطانیہ میں پاکستانی سفیر کو اس عدالت میں پیش ہونا پڑے گا۔ جسٹس محسن اختر کیانی کا کہنا تھا کہ وزارتوں کے نمائندے لکھ کر دیں کب مجرم کو عدالت کے سامنے پیش کریں گے، برطانیہ میں پاکستانی سفیر کو بتا دیں اس شخص کو ساتھ نہ لایا تو واپس نہیں جاسکے گا، عدالتی حکم پر عمل نہ کیا تو سیکرٹری خارجہ،سیکرٹری داخلہ اور سفیر کو جیل بھیج دوں گا۔ جسٹس محسن اختر کیانی  نےریمارکس دیے کہ نواز شریف جانا چاہیے تو دو دنوں میں چلا جائے ، برطانیہ سے پاکستانی شہری کو کیسے واپس لانا ہے  یہ  طے کرنے میں  چھ سال لگ گئے۔ عدالت نے ریمارکس دیے  اس قیدی کے لیے ائیر ایمبولینس تو نہیں آئے گی یہ سب تو امیروں کےلیے ہے ، ایک ملک دوسرے ملک سے یہ کام بھی نہیں کراسکتا تو یہ ایمبیسیاں بند کردیں ۔ نمائندہ کابینہ ڈویژن نے عدالت کو بتایا کہ کابینہ سیکرٹری نےتینوں کے خلاف ایکشن کے لیے وزیراعظم کو لکھا ہے،اس پر جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ ہمیں وزیر اعظم کے آرڈر کی ضرورت نہیں ، ہم نے تو صرف بتایا ہے کہ یہ آپ کے کرنے کا کام ہے۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ  ان اداروں میں جب کوئی کام نہیں کرسکتا تو استعفیٰ دے کر گھر جائے ، جسٹس محسن اختر کیانی کی وزارت خارجہ کے نمائندے کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ لکھ کر دیں ورنہ تحریری فیصلہ جاری کروں گا۔