Monday, November 29, 2021
English News آج کا اخبار براہراست نشریات(UK) براہراست ٹی وی
English News آج کا اخبار
براہراست نشریات(UK) براہراست ٹی وی

برصغیر کے مایہ ناز گلوکار محمد رفیع کو مداحوں سے بچھڑے چھتیس برس بیت گئے

برصغیر کے مایہ ناز گلوکار محمد رفیع کو مداحوں سے بچھڑے چھتیس برس بیت گئے
August 1, 2016
لاہور (92نیوز) چالیس سال سے زائد عرصے تک ہزاروں گیت گانے والے برصغیر کے مایہ ناز گلوکار محمد رفیع کو مداحوں سے بچھڑے چھتیس برس بیت گئے۔ تفصیلات کے مطابق 24دسمبر 1924ءکو کوٹلہ سلطان سنگھ امرتسر میں پیدا ہونے والے محمد رفیع سات بہن بھائیوں میں سے سب سے چھوٹے تھے۔ بچپن میں ہی گلوکاری کا شوق رکھنے والے محمد رفیع نے پہلی بار 1941ءمیں لاہور میں پنجابی فلم ”گل بلوچ“ کےلئے گانا گایا۔ محمد رفیع کو بریک تھرو 1947ءکو ہدایت کار شوکت حسین رضوی کی فلم ”جگنو“ سے ملا جس کے بعد ان کی مقبولیت کے نہ تھمنے والے سفر کا آغاز ہوا۔ محمد رفیع کی زندگی میں سب سے بڑا موڑ اس وقت آیا جب موسیقار اعظم نوشاد نے انہیں گانے کاموقع دیا۔ نوشاد کےساتھ محمد رفیع کی جوڑی بہت کامیاب رہی۔ گائیکی کےساتھ محمد رفیع کو اداکاری کا بھی شوق تھا۔ انہوں نے سماج کو بدل ڈالا اورہدایت کارشوکت حسین رضوی کی فلم ”جگنو“ میں اداکاری کی۔ چالیس سال سے زائد عرصے تک آواز کا جادو جگانے والے محمد رفیع نے تیس ہزار کے قریب فلمی اور غیرفلمی نغمات ریکارڈ کروائے۔ محمد رفیع کویہ ملکہ بھی حاصل تھا کہ وہ گانوں پر پرفارم کرنے والے اداکاروں کو سامنے رکھتے ہوئے اپنی آواز کا جادو جگاتے۔ 1972ءمیں رفیع نے حج بیت اللہ کی سعادت ملنے کے بعد فلموں میں بھجن گانا چھوڑ دیے جس سے ان کے ہندو ساتھی ناراض ہو گئے۔ معروف گلوکارہ لتاجی ان میں شامل تھیں۔ لتا نے چارسال تک محمدرفیع کےساتھ کسی فلم میں دوگانا ریکارڈ نہیں کرایا تاہم صلح ہونے کے بعد جو پہلادوگانا ریکارڈ کرایا وہ فلم ”سرگرم“ کا گیت ”ڈفلی والے“ تھا۔ گائیکی کلاسیکی ہو یا نیم کلاسیکی‘ بھجن ہویا غزل، ٹھمری ہویا اونچے سروں کی لے محمد رفیع ہرقسم کی گائیگی پر مکمل عبور رکھتے تھے۔ آواز کے اس جادوگر کا سحر جیسے اپنے دور میں قائم تھا ویسا ہی آج نظر آتاہے۔