Thursday, December 1, 2022

بدترین لوڈشیڈنگ اور صوبائی حقوق سے محرومی پر وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے پارلیمنٹ ہاﺅس کے سامنے دھرنا دیدیا

بدترین لوڈشیڈنگ اور صوبائی حقوق سے محرومی پر وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے پارلیمنٹ ہاﺅس کے سامنے دھرنا دیدیا
اسلام آباد  (92نیوز) لوڈشیڈنگ کے مسئلہ پر خیبرپختونخوا حکومت نے سرکاری طور پر اسلام آباد میں دھرنا دے دیا، وزیراعلیٰ پرویزخٹک نے شکوہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک کیا جا رہا ہے اور مسائل حل ہونے کی بجائے بڑھتے جا رہے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق وزیراعلیٰ پرویزخٹک اراکین اسمبلی کو لے کر اسلام آباد کے ایوانوں تک اپنی آواز پہنچانے کےلئے نکل پڑے ہیں۔ ذرائع کے مطابق صوبے میں لوڈشیڈنگ کا مسئلہ شدت اختیار کر گیا ہے، شہری علاقوں میں لوڈشیڈنگ کا دورانیہ 12گھنٹے جبکہ مضافات میں 20گھنٹوں تک پہنچ گیا ہے۔ صوبے نے پیسکو کے پاس ٹرانسفارمروں کےلئے رقم تو کئی سال سال سے جمع کرا رکھی ہے مگر ٹرانسفارمر نہیں ملتے۔ این ایف سی ایوارڈ کی مد میں 146ارب روپے واجب الادا ہیں، صوبے میں 100ملین کیوبک فٹ اضافی گیس سے حکومت سستی بجلی پیدا کرنے کےلئے مرکز سے التجائیں کرتی آرہی ہے۔ آئل اینڈ گیس پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی لگانے اور صوبے میں تین سال کےلئے انکم ٹیکس کی چھوٹ دینے کا مطالبہ بھی کیا جا رہا ہے۔ خیبرپختونخوا حکومت کو شکوہ ہے کہ چین کے ساتھ ہونے والے45ارب ڈالر کے معاہدوں میں خیبرپختونخوا کا حصہ صرف ڈھائی ارب ڈالر ہے جسے حکومت اونٹ کے منہ میں زیرہ اور صوبے کے ساتھ نا انصافی سمجھتی ہے۔ وزیراعلیٰ پرویزخٹک کے بقول اب صوبے کے حقوق کے حصول کےلئے وہ خاموش نہیں رہیں گے۔