Friday, October 7, 2022

بحریہ ٹاون کی کراچی کیلئے 9 سال میں 435 ارب روپے کی پیشکش مسترد

بحریہ ٹاون کی کراچی کیلئے 9 سال میں 435 ارب روپے کی پیشکش مسترد
 اسلام آباد (92 نیوز) سپریم کورٹ نے بحریہ ٹاون کی کراچی کیلئے 9 سال میں 435 ارب روپے کی پیشکش کو مسترد کر دیا۔ بحریہ ٹاؤن نے کراچی ، راولپنڈی اور مری کیلئے کل 479 ارب روپے کی پیشکش کر دی۔ وکیل علی ظفر نے صرف کراچی کیلئے 9 سالوں میں 435 ارب روپے کی ادائیگی کا یقین دلایا تو سپریم کورٹ نے پیشکش مسترد کر دی۔ بحریہ ٹاؤن عملدرآمد کیس کی سماعت کے دوران جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس دئیے کہ 9 تو ویسے بھی لکی نمبر نہیں، اس کو راونڈ فگر کریں۔ وکیل سے استفسار کیا کہ نجی مارکیٹنگ کمپنی پرزم نے جو نقشہ جمع کرایا ہے وہ آپ کے نقشے سے مختلف ہے۔ جو رقبہ بحریہ ٹاؤن نے سرنڈر کیا تھا وہ بھی نقشے میں شامل ہے۔ دوران سماعت ججز اور وکلاء کے مابین مزاح پر مبنی دلچسپ جملوں کا بھی تبادلہ ہوا۔ علی طفر نے کہا تین چار ملک ریاض جیسے لوگ آجائیں تو ملک کے مسائل حل ہو جائیں۔ اخبار میں خبر لگی کہ عدالت کو بحریہ ٹاون کے وکلاء پر اعتماد نہیں جس پر جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس دئیے کہ ہمیں ایک آدھ کو چھوڑ کر باقی سب پر اعتماد ہے۔ جسٹس فیصل عرب بولے کہ آپ ایسے لوگوں کا بتائیں، عدالت از خود نوٹس لے لے گی۔ عدالت نے بحریہ ٹاون کو 435 ارب کی پیشکش، اور ادائیگی کیلئے 9 سال کی مدت کم کرنے پر غور کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے سماعت 14 مارچ تک ملتوی کر دی۔