Saturday, October 1, 2022

بحریہ ٹاؤن کو غیرقانونی زمینیں الاٹ کرنے سے متعلق تحقیقاتی رپورٹ جمع کرا دی گئی

بحریہ ٹاؤن کو غیرقانونی زمینیں الاٹ کرنے سے متعلق تحقیقاتی رپورٹ جمع کرا دی گئی
کراچی (نائنٹی ٹو نیوز) سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں نیب حکام نے بحریہ ٹاؤن کو غیرقانونی زمینیں الاٹمنٹ سے متعلق تحقیقاتی رپورٹ جمع کرا دی۔ دوسری جانب عدالت نے ڈیپوٹیشن پر تعینات افسران کو فوری طور پر اصل محکموں میں واپس بھیجنے کا حکم دے دیا۔ سپریم کورٹ کراچی رجسٹری نے جسٹس امیر ہانی مسلم کی سربراہی میں تین رکنی لارجر بنچ نے بحریہ ٹاؤن کو دی جانے والی غیرقانونی الاٹمنٹ سے متعلق کیس کی سماعت کی۔ نیب نے بحریہ ٹاؤن کو کراچی میں زمینوں کی الاٹمنٹ سے متعلق تحقیقاتی رپورٹ جمع کرا دی۔ رپورٹ کے مطابق بحریہ ٹاؤن کو الاٹ کی گئی 6 ہزار 229 ایکڑ اراضی کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ بحریہ ٹاؤن میں سڑکیں تعمیر کر لی گئی ہیں اور ایک ہزار ایکڑ سے زائد اراضی پر تعمیرات  کی گئیں۔ الاٹمنٹ میں بظاہر غیرقانونی طریقہ کار اختیار کیا گیا۔ عدالت نے استفسار کیا کہ ابھی تک ایم ڈی اے کے نام یہ زمین نہیں تو بحریہ ٹاؤن کو کیسے دے دی گئی۔ حکومت کی منظوری کے بغیر نجی زمین کا تبادلہ کیسے کر دیا گیا۔ عدالت نے نیب کی تحقیقاتی رپورٹ پر عدم اعتماد کا اظہار کر دیا۔ عدالت نے ریمارکس دیئے کہ تفتیشی افسر کس کو بچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ غیرقانونی الاٹمنٹ کے معاملے پر وقاص ملک سمیت چار افراد کے نام  شامل ہیں۔ تحقیقات مکمل نہیں ہوئی اس لیے نہیں لکھا۔ سماعت کے دوران عدالت کو بتایا گیا کہ ایم ڈی اے کے ڈائریکٹر ایڈمن ضیاءالدین ڈیپوٹیشن پر تعینات ہیں۔ عدالت نے تمام محکموں میں ڈیپوٹیشن پر تعینات افسران کو  فوری طور پر واپس اصل محکموں میں بھیجنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ  ڈیپوٹیشن پر تعینات افسران کو اصل محکموں پر نہ بھیجا گیا تو ذمہ داروں کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کریں گے۔