Friday, December 2, 2022

بائیو ماس گیس فکشن پاور جنریشن پراجیکت تکمیل سے قبل ہی بند

بائیو ماس گیس فکشن پاور جنریشن پراجیکت تکمیل سے قبل ہی بند
فیصل آباد ( 92 نیوز) بائیو پنجاب کی سرکار نے عوام کے 66 کروڑ روپے ڈبو دیے ، فیصل آباد میں پانچ سال قبل شروع کیا گیا بائیو ماس گیس فکشن پاور جنریشن پراجیکٹ تکمیل سے قبل ہی بند کردیا گیا، منصوبے کے تحت 200 کلوواٹ بجلی بائیو گیس کے ذریعے پیدا کی جانا تھی۔ حکومت پنجاب نے پاکستان کے واحد بائیو ماس گیس سے بجلی بنانے کا منصوبہ ٹھپ کردیا ، زرعی یونیورسٹی میں بائیو ماس گیس کا منصوبہ 2014 میں شروع ہوا جس پر 770 ملین لاگت آنی تھی، پانچ سال کے دوران منصوبے پر 66 کروڑ روپے خرچ کر دیے گئے لیکن سب لاحاصل رہا۔ منصوبے کے تحت بائیو گیس سے 200 کلو واٹ بجلی بنائی جانی تھی جو 250 گھروں کے لیے کافی ہوتی ، لیکن حکومتی غیر سنجیدگی اس منصوبے کو لے ڈوبی دوسری جانب زرعی یونیورسٹی نے بھی منصوبے کی سرپرستی لینے سے صاف انکار کردیا۔ حکومت نے پہلے پنجاب بائیو گیس کمپنی اور بعد میں پاکستان کا پہلا اور واحد بائیو ماس گیس فکشن پاور جنریشن پراجیکٹ بند کرنے کا فیصلہ کرکے تمام ملازمین کونوکری سے برخاستگی کے نوٹسز بھیجوا دیے ہیں۔