Tuesday, October 4, 2022

ایک اور سرجیکل سٹرائیک کی ضرورت ہے ، بھارتی آرمی چیف کی گیدڑ بھبکی

ایک اور سرجیکل سٹرائیک کی ضرورت ہے ، بھارتی آرمی چیف کی گیدڑ بھبکی
نیو دہلی (92 نیوز) بھارتی آرمی چیف بپن راوت کی ایک اور گیدڑ بھبکی سامنے آ گئی۔ بپن راوت نے کہا کہ ایک اور سرجیکل سٹرائیک کی ضرورت ہے۔ بھارت پہلے بھی سرجیکل سٹرائیک کا بھونڈا الزام لگا کر ہزیمت کا سامنا کرچکا ہے۔ بھارتی آرمی چیف جنرل بپن راوت نے بھارتی میڈیا کو انٹرویو میں مودی سرکار کی جانب سے وزرائے خارجہ کی ملاقات منسوخ کرنے کے فیصلے کو صحیح قرار دیا ۔ جنرل بپن راوت نے دعویٰ کیا کہ پاکستان  بھارت کو ہزاروں زخم دے کر لہو لہو کرنے کا تہیہ کرچکا ہے، اسے اب کچھ ایسا کرکے دکھانا ہوگا جس سے لگے کہ وہ دہشتگردی کو بڑھاوا نہیں دے رہا۔ بھارتی آرمی چیف نے اعتراف کیا کہ عمران خان نے اقتدارمیں آنے کے بعد متعدد بار امن کے پیغام بھیجنےکی کوشش کی ، تاہم انھوں نے ساتھ ہی الزام لگایا کہ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ امن کی خواہاں نہیں ہے ۔ جنرل بپن راوت نے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال کا الزام بھی پاکستان پر عائد کردیا، کہتے ہیں ہمسائیہ ملک کشمیری نوجوانوں کو بنیاد پرست بنارہا ہے، وہ پاکستان کے ہاتھوں شطرنج کا مہرہ بنے ہوئے ہیں۔ دہشت گرد بھارتی فوج کے آرمی چیف کے غیر ذمہ دارانہ بیان سے بھارتی فوج کا ہی مکروہ چہرہ سامنے آگیا  ، تاہم پاک فوج  نے بھی اپنا پیغام پہنچا دیا۔  ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے دوٹوک  الفاظ میں پیغام دیا اور کہا بھارت ایسی کوئی حرکت نہ کرے جو اُس کے اپنے لئے نقصان  کا باعث بنے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ ہم  جنگ کے لئے تیار ہیں مگر امن کے لئے آگے بڑھنا چاہتے ہیں اسے کمزوری نہ سمجھا جائے۔ بھارتی فوجی کی توہین کے الزام کا بھی ڈی جی آئی ایس پی آر نے جواب دیا اور کہا کہ پاکستان پروفیشنل فوج ہے کسی فوجی کی توہین نہیں کر سکتی ۔ میجر جنرل آصف غفور نے واضح کہا کہ بھارت کومقبوضہ کشمیر اور  داخلی سطح پر مسائل کا سامنا ہے ،پاکستان مذاکرات سے کبھی نہیں بھاگا اب بھی حکومت پاکستان کی پیش کش موجود ہے۔ سرجیکل سٹرائیک کا دعویٰ جھوٹ کا پلندہ تھا ۔ ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ بھارتی فوج اپنی پارلیمنٹ کو مطمئن نہیں کر سکی تھی ۔ میجر جنرل آصف غفور نے مزید کہا کہ بھارت اپنے داخلی معاملات کا رخ پاکستان کی طرف موڑنا چاہتا ہے ،پاکستان دہشت گردی کے خلاف انتہائی موثر کردار ادا کر چکا ہے اور اب دنیا کے ساتھ بھی مثبت انداز میں آگے بڑھ رہا ہے۔