Monday, January 24, 2022
براہراست ٹی وی براہراست نشریات(UK) آج کا اخبار English News
English News آج کا اخبار
براہراست ٹی وی براہراست نشریات(UK)

ایون فیلڈ کیس میں نیب اپیل مسترد،نواز،مریم ،صفدر کی بریت کا فیصلہ ‏برقرار

ایون فیلڈ کیس میں نیب اپیل مسترد،نواز،مریم ،صفدر کی بریت کا فیصلہ ‏برقرار
January 14, 2019
اسلام آباد ( 92 نیوز) ایون فیلڈ کیس میں نواز شریف کی ضمانت کے خلاف نیب کی اپیل کو سپریم کورٹ نے مسترد کر دیا۔ عدالت عظمیٰ نے نواز شریف ، مریم نواز اور کیپٹن (ر) صفدر  کی ضمانت کا اسلام آباد ہائیکور ٹ کا فیصلہ برقرار رکھا۔ نیب اپیل کی سماعت سپریم کورٹ کے پانچ رکنی لاجربینچ نے کی، چیف جسٹس نے استفسارکیا کہ ضمانت کس اصول کے تحت منسوخ کی جائے،نیب  وکیل نے موقف اختیار کیا کہ نواز شریف اور مریم نواز کا کیس نامساعد حالات میں نہیں آتا۔ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار  نے مزید کہا کہ  وائٹ کالر کرائم کے لیے الگ قانون بنانا ہو گا،حکومت نے وائٹ کالر کرائم پر کوئی کام نہیں کیا۔ جسٹس گلزاراحمد نے ریمارکس دیئے کہ وائٹ کالر کرائم کے لیے ہی نیب کا قانون بنا تھا،نیب قانون پر سختی سے عمل کرنا ہو گا،چین میں کرپشن پر سزائے موت دی جاتی ہے،سمری ٹرائل کے بعد فائرنگ سکواڈ کے سامنے کھڑا کر دیا جاتا ہے۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ کا کہنا ہے کہ نیب کا کوئی نقصان نہیں پھر کیوں اصرار کر رہا ہے،بدقسمتی سے نواز شریف دوبارہ جیل میں ہیں،خصوصی حالات میں ضمانت ہو سکتی۔ نیب وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے فاضل جسٹس نے کہا آپ کی بات سن کر شکسپیر کا مرچنٹ آف وینس یاد آ گیا،شکسپیرکا نام لیا ہے اب پھر کہا جائے گا ناول کا حوالہ دیتے ہیں۔ نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث  کے دلائل شروع کرنے سے قبل جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیے کہ خواجہ صاحب آپ ایسا نقطہ نہ دیجئے گا کہ بات ضمانت منسوخی کی طرف چلی جائے،ریمارکس پر  عدالت میں قہقہے لگ گئے ۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ ہم غلطی نہیں کرنا چاہتے جو ہائیکورٹ نے کی۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے نواز شریف ، مریم نواز اور کیپٹن (ر) صفدر کو سنائی گئی سزائیں معطل  کی تھیں ،عدالت نے تینوں کی رہائی کا حکم دیا تھا جب کہ  مجرموں کو  پانچ پانچ لاکھ روپے کے مچلکے جمع کرانے کی ہدایت بھی کی  گئی تھی ۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے  جسٹس اطہر من اللہ  اور جسٹس گل حسن اورنگزیب  پر مشتمل دو رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی  تھی ۔ واضح رہے احتساب عدالت نے ایون فیلڈ ریفرنس کا فیصلہ چھ جولائی کو سنایا ۔ جس میں نواز شریف کو دس سال ، مریم نواز کو سات سال جبکہ کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کو ایک سال قید کی سزا سنائی گئی  تھی۔ سزاؤں کے خلاف  16 جولائی کو اسلام آباد ہائی کورٹ  میں اپیلیں دائر کی گئیں  ، اسلام آباد ہائی کورٹ کے دو رکنی بینچ نے  پانچ سماعتوں میں وکلا  صفائی اور نیب کا موقف سنا  تھا۔ سماعت کے دوران کئی مرتبہ نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث اور نیب پراسکیوٹر کے درمیان تلخ جملوں کا  تبادلہ بھی ہوا  جبکہ معزز جج صاحبان کےبھی سخت ریمارکس سامنے آئے ۔تاہم  سماعت کے بعد اسلام آباد ہائی کورٹ نے 20 اگست کو فیصلہ موخر کر دیا ، عدالتی تعطیلات کے بعد سزا معطلی کے لئے دائر درخواستوں  پر سماعت پھر سے شروع ہوئی ۔ اس دوران نیب نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے دائرہ کار کو بھی سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تاہم عدالت عظمیٰ نے نیب کی درخواست  نہ صرف مسترد کر دی  بلکہ عدالت کا وقت ضائع  کرنے پر بیس ہزار جرمانہ بھی کیا  جس کے بعد درخواستوں پر اسلام آباد ہائی کورٹ میں ایک بار سماعت ہوئی ۔ وکیل صفائی خواجہ حارث اور امجد پرویز نے دلائل مکمل کئے تو عدالت نے نیب پراسکیوٹر کے دلائل بھی سنے  ،ابتدا میں فیصلہ محفوظ کیا  جو بعد میں سنا دیا گیا تھا۔