Saturday, August 20, 2022

این اے دو سو چھیالیس میں اتحاد کیلئے امیدوار کی دستبرداری پر جماعت اسلامی اور پی ٹی آئی میں کشمکش

این اے دو سو چھیالیس میں اتحاد کیلئے امیدوار کی دستبرداری پر جماعت اسلامی اور پی ٹی آئی میں کشمکش
کراچی (نائنٹی ٹو نیوز) این اے دو سو چھیالیس کے ضمنی الیکشن میں جماعت اسلامی اور تحریک انصاف میں سے کس کا امیدوار کس کے حق میں دستبردار ہوگا، فیصلے کیلئے سراج الحق اور جہانگیر ترین آج ملاقات کریں گے۔ این اے دو سو چھیالیس کے ضمنی الیکشن میں جماعت اسلامی اور تحریک انصاف اتحاد تو چاہتی ہیں لیکن امیدوار کس کا دستبردار ہوگا، فیصلہ باقی ہے۔ تحریک انصاف کا خیال ہے کہ این اے دو سو چھیالیس سے جماعت اسلامی امیدوار دستبردار کرا لے اور ایم کیو ایم سے ون ٹو ون مقابلے کیلئے اس کا ساتھ دے۔ تحریک انصاف نے حلقے میں طاقت بھی دکھائی، اس سلسلے میں ریلی نکالی گئی اور تحریک انصاف کے قائد عمران خان نے دورہ بھی کیا۔ جناح گرائونڈ بھی گئے لیکن کوئی خاص اثر نہ ڈال سکے۔ جناح گرائونڈ میں عمران خان کے خطاب نہ کرنے پر بھی تنقید کی جا رہی ہے اور مبصرین اسے پی ٹی آئی کی ناکامی گردانتے ہیں۔ جماعت اسلامی نے ڈور ٹو ڈور الیکشن مہم کے بعد عائشہ منزل جلسے میں طاقت دکھائی۔ جماعت اسلامی کا جلسہ پی ٹی آئی کی نسبت بڑا تھا، عوام کی تعداد متاثر کن تھی۔ جماعت اسلامی ہمیشہ سے اس حلقے میں الیکشن میں حصہ لیتی آئی ہے اور روایتی ووٹ بینک بھی اس کے ساتھ ہے۔ جماعت اسلامی کا کہنا ہے کہ وہ اس حلقے میں کبھی نمبر ون رہی تو کبھی نمبر ٹو۔ نئے آنے والوں کو ہی دستبردار ہونا ہوگا۔