Friday, October 7, 2022

این آر او کیس میں ٹرائل نہیں کررہے،الزامات پرتفصیلات مانگی ہیں ، سپریم کورٹ

این آر او کیس میں ٹرائل نہیں کررہے،الزامات پرتفصیلات مانگی ہیں ، سپریم کورٹ
اسلام آباد (92 نیوز) چیف جسٹس ثاقب نثار نے این آر او کیس میں کہا کہ کسی کا ٹرائل نہیں کر رہے ، جو الزامات لگے ہیں ان پر تفصیلات مانگی ہیں۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے این آر او کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیتے ہوئے کہا عدالت مقدمات دوبارہ کھولنے کا حکم بھی دے سکتی ہے ۔ صرف اثاثوں کی تفصیلات مانگی تھی ۔ زرداری اثاثوں کی تفصیل نہیں دینا چاہتے تو انکی مرضی ہے ۔ جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس میں کہا محترمہ کا ٹرائل نہیں کررہے ، جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا تاثر ہے کہ تمام شواہد زرداری نے خود ضائع کیے ۔ آصف علی زرداری کے وکیل فاروق ایچ نائیک نے کہا این آر او کیس اخباری رپورٹ پر بنایا گیا ۔ این آر او کالعدم ہونے پر زرداری سمیت تمام افراد کیخلاف مقدمات بحال ہو گئے ۔ ان کا کہنا تھا نیب کی تمام مقدمات میں از سر نو تحقیقات کے بعد آصف علی زرداری میرٹ پر تمام مقدمات سے بری ہوئے ۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا پرویز مشرف پاکستان آنے کی تاریخ بتا دیں کہ کب آئیں گے انہیں سفری دستاویزات مل جائیں گی ، عدالت عظمی نے سابق صدر کو ہر قسم کی سیکیورٹی فراہم کرنے کی یقین کراتے ہوئے کہا کہ پرویز مشرف کو بریگیڈ کی سکیورٹی چاہیے تو بھی مل جائے گی ۔ انہوں نے کہا کہ  پرویز مشرف کو عدالت نے مفرور قرار دیا ہے ، کیا مشرف کے لیے قانون مختلف ہے ، مشرف بری ہو جائیں تو جہاں چاہیں گھومیں ۔ عدالت نے پرویز مشرف کی واپسی کے حوالے سے وکیل کو ہدایات لینے کے لیے ایک ہفتے کی مہلت دیتے ہوئے آصف علی زرداری کی حد تک کیس کی سماعت دو ہفتوں کے لیے ملتوی کردی ۔