Saturday, November 26, 2022

ایم کیو ایم پنجاب کے سیکڑوں عہدیداروں کا پارٹی سے مستعفی ہونے کا فیصلہ

ایم کیو ایم پنجاب کے سیکڑوں عہدیداروں کا پارٹی سے مستعفی ہونے کا فیصلہ
اسلام آباد (92نیوز) ایم کیو ایم کے برے دن۔ سندھ کے بعد پنجاب بھر سے سیکڑوں عہدیداروں نے مستعفی ہونے کا فیصلہ کرلیا۔ اسلام آباد کے 14 عہدیدار بھی پارٹی چھوڑنے کےلئے پر تولنے لگے۔ ناراض رہنماوں کو کسی اور سے نہیں ایم کیو ایم پاکستان کی قیادت سے شکوہ ہے۔ تفصیلات کے مطابق متحدہ کے بانی الطاف حسین کی پاکستان مخالف حالیہ تقریر نے ایم کیو ایم کو برا پھنسایا۔ پہلے رہنما گرفتار ہوئے پھر وضاحتیں سامنے آئیں۔ عوام کاغصہ پھر بھی ٹھنڈا نہ ہوا تو وفاداریاں بدلی جانے لگیں۔ ایم کیو ایم کے ایم این اے آصف حسنین نے پارٹی کو بائے بائے کہا اور مصطفی کمال کی پاک سرزمین میں قدم رکھ دیا۔ یہی نہیں سندھ سے کئی عہدیدار بھی اڑن چھو ہو گئے۔ اب پنجاب میں بھی ایم کیو ایم لڑکھڑانے لگی۔ سیکڑوں عہدیداروں نے پارٹی سے مستعفی ہونے کا فیصلہ کر لیا۔ ان عہدیداروںکی اکثریت کا تعلق جنوبی پنجاب سے ہے۔ ذرائع کے مطابق مستعفی ہونے کا فیصلہ کرنیوالوں کو ایم کیو ایم پاکستان کے رہنماوں سے شکوہ ہے۔ اسلام آباد کے رہنما انیس عباسی‘ رحیم یارخان کے شاہ رسول‘ فیصل آبادکے ذوالفقار احمد اور ملتان کے محمد سلطان کو پارٹی رہنما فاروق ستار سے گلہ ہے۔ کہتے ہیں کوئی رابطہ نہیں کیا جا رہا ہے۔ فاروق ستار پارٹی معاملات پر اعتماد میں نہیں لے رہے اسی لئے مستعفی ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔ پنجاب کے رہنماوں کے فیصلے کے بعد لگتا ہے ایم کیوایم کے اندر استعفوں کا موسم چل رہا ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ استعفوں کا یہ سلسلہ کہاں جا کر رکے گا۔