Saturday, December 3, 2022

ایف بی آر کے افسران کی گریڈ بائیس میں ترقیوں کا فیصلہ کالعدم

ایف بی آر کے افسران کی گریڈ بائیس میں ترقیوں کا فیصلہ کالعدم
اسلام آباد(92نیوز)سپریم کورٹ نے ایف بی آر کے افسران کی گریڈ بائیس میں ترقیوں کے فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا چیف جسٹس کہتے ہیں کہ منظور نظر افسران کو نوازنے کے لئے اہل افسران کو بائی پاس کیا جاتا ہے عدالت نے ایک ماہ میں اجلاس بلا کر ترقیوں کا دوبارہ جائزہ لینے کا حکم دے دیا۔ تفصیلات کےمطابق چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی درخواست گزار رعنا احمد نے آئین کے آرٹیکل ایک سو چوراسی تین کے تحت ایف بی آر افسران کی گریڈ اکیس سے گریڈ بائیس میں ترقیوں کے فیصلے کو چیلنج کیا تھا۔ عدالت نے یکم اکتوبر 2016ءکے سلیکشن بورڈ کے اجلاس میں وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار اور وزیر اعظم کے معاون خصوصی خواجہ ظہیر احمد کی شرکت پر بھی تعجب کا اظہار کیا۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ اسحاق ڈار اور خواجہ ظہیر احمد کس حیثیت میں اجلاس میں شریک ہوئے۔ جسٹس اعجاز الااحسن نے ریمارکس دیئے کہ اسحاق ڈار کے پاس ایسی کون سی اطلاعات تھیں جو کہ چیئرمین ایف بی آر کے پاس نہیں تھیں وفاقی سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ نے عدالت کو بتایا کہ دونوں نے وزیر اعظم کی دعوت پر اجلاس میں شرکت کی۔ انہوں نے عدالت کو یقین دہانی کرائی کہ آئندہ اجلاس میں کوئی غیرمتعلقہ افراد شریک نہیں ہوگاچیف جسٹس کا کہنا تھا کہ بیورو کریٹ ہی حکومت چلاتے ہیں منظور نظر افسران کو نوازنے کے لئے اہل افسران کو بائی پاس کیا جاتا ہے عدالت نے اپنے فیصلے میں سلیکشن بورڈ کے اکتوبر 2016 کے فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے ایک ماہ میں سلیکشن بورڈ کا دوبارہ اجلاس منعقد کر کے ترقیوں کا دوبارہ جائزہ لینے کی ہدایت کی ہے کیس کی سماعت کو غیر معینہ مدت کے لئے ملتوی کر دیا گیا۔