Tuesday, December 6, 2022

ایس ای سی پی کو سرمایہ کاروں کے ریکارڈ پر چھاپے مارنے کا اختیار مل گیا

ایس ای سی پی کو سرمایہ کاروں کے ریکارڈ پر چھاپے مارنے کا اختیار مل گیا
اسلام آباد ( 92 نیوز) ایس ای سی پی کو سرمایہ کاروں کے ریکارڈ پر چھاپے مارنےکااختیار مل گیا ،  نوٹیفکیشن کے مطابق چھاپے دفاتر اور رہائشگاہوں پر مارے  جا سکیں گے ، مقصد ملکیت اور ٹیکس کی غلط بیانی پکڑنا ہے، چھاپوں کےدوران مجسٹریٹ کے درجے کا ایک افسر ساتھ ہونا ضروری ہوگا۔ حکومت نے  سکیورٹی اینڈ ایکسچینچ کمیشن آف پاکستان  (ایس ای سی پی ) کو سرمایہ کاروں کے ریکارڈ پر چھاپے مارنے کی اجازت دے دی، نوٹیفکیشن کے مطابق  چھاپے دفاتر اور رہائش گاہوں پر مارے جا سکیں گے، چھاپوں کا مقصد ملکیت اور ٹیکس کی غلط بیانی پکڑنا ہے۔ ایس ای سی پی کی ٹیمیں مختلف محکموں کی شکایت پر چھاپے ماریں گی، چھاپوں کے دوران مجسٹریٹ درجے کا ایک افسر ساتھ ہونا ضروری ہوگا۔ ایس ای سی پی نے گھروں اور دفاتر پر چھاپے مارنے کے قوانین بھی جاری کر دیے ، چھاپہ مارتے وقت مقامی پولیس کو ساتھ رکھے گی۔ چھاپے سے قبل مقامی مجسٹریٹ سے اجازت لینا لازمی ہوگا ۔ چھاپے کے دوران قبضے میں لی گئی اشیاء اور کاغذات کی فہرست تیار کی جائے گی۔ یہ فہرست ایس ای سی پی کے علاقائی دفاتر اور ملزم کو بھی دی جائے گی ۔ نوٹیفکیشن کے مطابق ایس ای سی پی الیکٹرونکس اشیاء کو قبضے میں لینے کا اختیار رکھتی ہیں ،  انکوائری افسر کے علاوہ ایس ای سی پی کے مزید دو افراد گواہی کے لئے موقع پر موجود ہونگے۔ چھاپے کے دوران  ایس ای سی پی کسی عمارت میں داخل ہونے کے لئے کھڑکی یا دروازہ توڑ سکتی ہے ، چھاپے کے وقت ضبط اشیاء غیر ضروری ہونے کی صورت میں مالکان کو واپس کرنا ہونگی۔ قوانین کی خلاف ورزی پر  ایک  کروڑ روپے تک جرمانہ ہو گا۔ قوانین کی خلاف ورزی جاری رہنے کی صورت میں 1 لاکھ روپے روزانہ کے حساب سے جرمانہ کیا جائے گا ۔