Saturday, December 3, 2022

ایران کا یورینیم افزودگی کا اعلان ، امریکا اور یورپی یونین برہم

ایران کا یورینیم افزودگی کا اعلان ، امریکا اور یورپی یونین برہم
واشنگٹن ( 92 نیوز) ایران  کے  یورینیم افزودگی کے 2015 کے معاہدے سے تجاوز کے اعلان پر امریکا اور یورپی یونین نے سخت برہمی کا اظہار کیا۔ امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیوکا کہنا ہے کہ یورینیم افزودگی  میں اضافے کی وجہ سے ایران کو مزید تنہائی اور پابندیوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ایٹمی ہتھیاروں سے لیس ایران دنیا کیلئے بہت بڑا خطرہ پیدا کر دے گا۔ یورپی یونین کی فارن پالیسی کے سربراہ کی ترجمان مایا کوسجیاچچ نے ایران کی تین اعشاریہ چھ سات  فیصد کی حد سے زیادہ نیو کلیئر افزودگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ایران کو 2015 کی ڈیل کو مجروح کرنے سے باز رہنا چاہیے۔ گزشتہ روز ایران کے نائب وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا تھا کہ کہ ایران اب بھی عالمی جوہری معاہدے کو مکمل خاتمے سے بچانا چاہتا ہےلیکن معاہدے کے ثالثی یورپی ممالک اپنے وعدے پورے کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ نیوز کانفرنس  کرتے ہوئے ایرانی نائب وزیر خارجہ کا کہنا تھاکہ اگلے چند گھنٹوں میں ایران یورینیم کو 3.67 فیصد ارتکاز کے لیول پر افزودہ کرنا شروع کر دے گا  اور ایسا کرنے کا مقصد بوشیشر پاور پلانٹ کے لیے ایندھن کی فراہمی ہو گا۔ ایرانی نائب وزیر خارجہ کا مزید کہنا تھا کہ اگر چین،فرانس،جرمنی اور برطانیہ سمیت معاہدے کے فریقین  نے  وعدے کے مطابق ایران کو امریکی پابندیوں سے بچانے کے لیے کچھ نہ کیا تو ایران ہر دو ماہ بعد اس معاہدے پر دی گئی اپنی کمٹمنٹ سے پیچھے ہٹتا جائے گا۔