Friday, February 3, 2023

ایران جلد نیو کلیئر پروگرام پر مذاکرات کیلئے تیار ہو جائیگا، ٹرمپ

ایران جلد نیو کلیئر پروگرام پر مذاکرات کیلئے تیار ہو جائیگا، ٹرمپ
واشنگٹن ( 92 نیوز) امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ امید ہے ایران جلد نیو کلیئر پروگرام پر مذاکرات کے لئے تیار ہو جائے گا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نےایران کے حوالے سے اپنے ٹویٹ میں لکھا کہ امید ہے ایرانی حکمران جنگ کی بجائے امن کو ترجیح دیں گے اور نیو کلیئر پروگرام کے حوالے سے جلد مذاکرات کی میز پرہوں گے ۔ ٹرمپ نے امریکی پالیسی پر وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ ان کی انتظامیہ مشرق وسطیٰ کی پالیسی پر منقسم نہیں ہے ۔امریکا کے ایران نیو کلیئر ڈیل سے باہر ہونے کیوجہ سے خطے میں کشیدگی ہے۔

ایران نے جوہری ڈیل سے جزوی طور پر دستبرداری کا اعلان کر دیا

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آئی ٹی خطرات پر قومی ہنگامی صورتحال کا اعلان کرتے ہوئے امریکی ٹیلی کمیونیکیشن نیٹ ورکس کی حفاظت کےحکم نامے پردستخط کر دیے۔ غیر ملکی خبررساں ادارے کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک یگزیکٹوآرڈر پردستخط کرکےملک میں ہنگامی صورتحال نافذکردی ہے۔انہوں نے امریکی کمپنیوں پر ملکی سلامتی کیخلاف کام کرنےوالی فرموں کاسامان خریدنےپربھی پابندی عائدکر دی ہے۔ صدر ٹرمپ نےایگزیکٹو آرڈر میں کسی بھی کمپنی کا نام خاص طور پر نہیں لیا۔تاہم تجزیہ کاروں کاخیال ہے کہ صدر ٹرمپ نے خاص طورپرچین کی ٹیلی کام کمپنی کےحوالےسےیہ اقدام اٹھایا ہے۔حکم نامے پرکامرس ڈیپارٹمنٹ عملدرآمد کرانے کاذمہ دارہو گا۔ دوسری جانب ایرانی وزیر دفاع امیرحاتمی کا کہنا ہے کہ ایران کے خلاف قائم ہونےوالے امریکی اور صیہونی اتحاد کو شکست کا کڑوا مزہ چکھائیں گے۔ انقلابی گارڈزکےسابق اہلکاروں سےخطاب کرتے ہوئے امیرحاتمی نے کہاکہ تہران کیخلاف انقلاب کے بعد سے ہی سازشیں شروع ہوگئی تھیں تاہم امریکی اورصیہونی اتحاد کو شکست دیں گے۔ خطے کی موجودہ صورتحال کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ایرانی وزیردفاع نے کہا کہ امریکامسلسل ایران کے خلاف سازشوں میں مصروف ہےمگر یہ واضح کردینا چاہتے ہیں کہ تہران حکومت ہرقسم کے خطرے سے نمٹنےکیلئے پوری طرح تیارہے۔ ادھر روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے کہا کہ روس فائربریگیڈ نہیں ہےجوہر ایک کوبچاتا پھرے ،ایران کو چاہئے کہ وہ ایٹمی ڈیل پرعملدرآمدبرقرار رکھے۔ آسٹرین ہم منصب الیگزینڈر بیلن کے ہمراہ نیوز کانفرنس کےدوران روسی صدرنےڈیل سےعلیحدگی پرامریکی حکومت اوریورپ کوبھی تنقید کا نشانہ بنایا ، انہوں نے کہا روس  ہرمسئلےکے حل کیلئے مخلصانہ کردار اداکرتا ہے تاہم وہ اکیلےہرمسئلہ حل نہیں کرسکتا۔ انہوں نےکہاامریکاکےایرانی ایٹمی معاہدےسےنکلنےکےبعد صورتحال خراب ہوئی ہے ، یورپ اس قابل نہیں کہ وہ اپنےبل بوتےپرڈیل کو بچا سکے لیکن اگر ایران اس معاہدےسےالگ ہوا توسب نےاس کا الزام تہران پرہی عائدکرناہے۔ ادھرمتحدہ عرب امارات  کےوزیرمملکت برائے خارجہ امور ڈاکٹر انور گرگاش نے کہا کہ  بحری جہازوں پر حملوں کے بعد ایران کے رویے سے بھی مشکل حالات پیدا ہوئے ہیں اور اس نازک صورتحال میں خطےمیں تحمل کی ضرورت ہے۔ یواےای  کےوزیرمملکت برائے خارجہ امور نے مزید کہا کہ حالیہ حملوں کےباوجودمتحدہ عرب امارات امن واستحکام کیلئے پرعزم ہے اور کشیدگی بڑھانے کےبجائےتحمل سےکام لینےکی ضرورت ہے۔ ڈاکٹر گرگاش نے کہا ایسے حالات میں ہمیں احتیاط اوربہترین ادراک پرتوجہ دینی چاہیے۔