Thursday, October 6, 2022

ایران اپنے مقاصد کے لیے افغان طالبان کو ہتھیار اور نقد رقوم فراہم کرتا رہا ہے: گارڈین

ایران اپنے مقاصد کے لیے افغان طالبان کو ہتھیار اور نقد رقوم فراہم کرتا رہا ہے: گارڈین
لاہور (نائنٹی ٹو نیوز) برطانوی اخبار گارڈین نے ملا اختر منصور کی ہلاکت میں ایرانی ہاتھ ملوث ہونے کا اشارہ دیا ہے۔ اخبار کے مطابق ایران اپنے مقاصد کے لیے افغان طالبان کو ہتھیار اور نقد رقوم فراہم کرتا رہا ہے لیکن دونوں کا نظریاتی اختلاف بھی بہت واضح ہے۔ برطانوی اخبار گارڈین کی رپورٹ کے مطابق ملا اختر منصور کی ایران سے پاکستان واپسی پر ہلاکت افغان طالبان اور ایران کے درمیان پیچیدہ رشتے کو ایک بار پھر نمایاں کر گئی۔ اخبار کے مطابق پاکستان کو افغان طالبان کا مددگار ہونے کا طعنہ دیا جاتا ہے لیکن ایران بھی طالبان کو ہتھیار، نقد رقوم اور محفوظ پناہ گاہیں فراہم کرتا ہے۔ اگرچہ طالبان اور ایران میں نظریاتی اختلاف ہے لیکن دونوں مشترکہ مفاد کے لیے اور مشترکہ دشمن کے خلاف جہاں ضروری سمجھتے ہیں تعاون بھی کرتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ملا منصور دو ماہ پہلے ایران گئے اور ایران سے پاکستانی حدود میں داخلے کے فوری بعد مارے گئے۔ ابھی یہ واضح نہیں کہ ملا منصور کا دورہ ایران ایرانی انقلابی گارڈز کی مدد سے تھا یا نہیں۔ خطے کے امور کے ماہر مائیکل سیمپل کا کہنا ہے کہ ملا منصور کی ایران سے قربت طالبان کے اندر بھی پسند نہیں کی گئی ہو گی اور اسے اپنے مذہب اور اقدار کے خلاف سمجھا گیا ہو گا اور اس بنا پر بھی شاید منصور کو مخالفت کا سامنا کرنا پڑا ہو۔ امریکا کی لیک ہونے والی سفارتی خط وکتابت میں بھی اس بات کا پتہ چلا تھا کہ امریکا کے سینئر سفارتکار ایرک ایڈل مین نے 2007 میں اس وقت کے صدر حامد کرزئی کو خبردار کیا تھا کہ ایرانی مداخلت سے حالات بگڑ رہے ہیں۔ امریکی محکمہ خارجہ کی دستاویزات سے بھی پتہ چلتا ہے کہ ایران طالبان کو زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل، خطرناک ترین باردوی سرنگیں فراہم کر رہا تھا اور امریکی فوج نے اسلحہ کی کھیپ پکڑی تھی۔