Sunday, November 27, 2022

اپنے جرائم چھپانے کے لیے آزادی صحافت کی آڑ لی جارہی ہے ، ارشاد عارف

اپنے جرائم چھپانے کے لیے آزادی صحافت کی آڑ لی جارہی ہے ، ارشاد عارف
 اسلام آباد (92 نیوز) نامور صحافی ارشاد احمد عارف نے نائنٹی ٹونیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اپنے جرائم چھپانے کے لیے آزادی صحافت کی آڑ لی جارہی ہے۔ احتساب سب کا اور بلا امتیاز ہونا چاہئے۔ ملکی استحکام کے خلاف بات کرنا ، غیر ملکی ایجنڈے کے تحت قومی اداروں کو تنقید کانشانہ بنانا آزادی صحافت نہیں۔ سینئر صحافیوں نے صحافی کے لبادے میں چھپے مفاد پرستوں کو کھری کھری سنا ڈالیں۔ سینئر صحافی رانا عظیم نے کہا کہ صحافیوں کے احتساب کو آزادی صحافت سے نہیں جوڑا جا سکتا۔ اپنا کچا چٹھا کھلنے پر ان کو آزادی صحافت یاد آگئی ہے۔ عارف حمید بھٹی کا کہنا ہے کہ آزادی صحافت مسئلہ نہیں ، چند صحافیوں کے مفادات کو ٹھیس لگنے لگی ہے۔ صحافی کو غیر جانبدار ہونا چاہئے۔ بعض صحافی تو سیاسی جماعتوں کے سوشل میڈیا سیل چلا رہے ہیں۔ سینئر اینکر معید پیرزادہ کہتے ہیں بہت سے لوگوں نے آزادی صحافت کا غیر ذمہ دارانہ استعمال کیا ۔ کئی بیرون ممالک بیٹھے وظیفے لے رہے ہیں۔ سینیر تجزیہ کار ہارون رشید نے کہا ہے کسی کو کھلی چھٹی نہیں دی جا سکتی۔ سینئر تجزیہ کار ظفر ہلالی کا کہنا ہے کہ پراپیگنڈہ کرنے والے کس قسم کے لوگ ہیں عوام کو پتہ ہے۔ ایسی صحافت پاکستان میں نہیں ہونی چاہئے۔