Thursday, September 29, 2022

اپنے بچے کو سردی سے بچائیں .... کچھ احتیاطیں‘ کچھ تدابیر

اپنے بچے کو سردی سے بچائیں .... کچھ احتیاطیں‘ کچھ تدابیر
لاہور (92نیوز) سردیاں کم سن بچوں کو زیادہ اس لیے متاثر کرتی ہیں کیونکہ بعض والدین سردیوں میں احتیاطی تدابیر بھول جاتے ہیں اور پھر یہ پھول مرجھانے لگتے ہیں۔ ذراسی بے احتیاطی بچوں کو نمونیابخار سمیت متعدد بیماریوں میں مبتلا کر دیتی ہے۔ تفصیلات کے مطابق سردیوں میں بچوں کی قوت مدافعت بہت کم ہو جاتی ہے۔ بچے موسمی سختی برداشت نہیں کر پاتے اور آب و ہوا کی تبدیلی سے بہت جلد متاثر ہو جاتے ہیں۔ سردیاں آتے ہی وائرل انفیکشن عام ہوجاتا ہے۔ زکام، گلے کی خراش، نمونیہ، بخار وغیرہ موسمی بیماریاں ہیں جو اس موسم میں لوگوں کو زیادہ اپنا شکار بناتی ہیں۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ سردی سے نارمل بخار ہونے کی صورت میں خود سے اینٹی بایوٹک دینے سے گریز کریں۔ بچے کو بخار سے سردی لگ رہی ہو اور وہ کانپنے لگے تو اسے روئی کا بنولہ نہ بنائیں بلکہ ذرا ڈھیلے کپڑے پہنائیں۔ اکثر مائیں بچوں کو بخار میں گرم کپڑوں سے سر سے پیر تک ڈھانپ دیتی ہیں جس سے بعض اوقات ان کی حرارت معمول سے بھی بڑھ جاتی ہے۔ بخار کی صورت میں بچے کو سوپ اور یخنی دیں۔ وقفے وقفے سے بچے کا درجہ حرارت نوٹ کرتے رہیں اور بخار بڑھنے کی صورت میں معالج سے ضرور رجوع کریں۔ سردی کے موسم میں نوزائیدہ بچوں کے پاﺅں، سینے اور خاص طور پر سر کو گرم رہنا چاہیے۔ شیر خوار اور کم از کم پانچ برس تک کے بچوں کے سر اور سینے کو ڈھانپ کر ر کھیں۔ موسم کی سختی کے حساب سے بچوں کے سر پر اونی ٹوپی اور پاوں میں موزے پہنانے کے ساتھ ساتھ سینہ بند یا کوئی ہاف سوئٹر کپڑوں کے اندر پہنائیں۔ ہائی نیک سوئٹر پہنانا بھی مفید رہے گا۔ جو مائیں بچوں کو فیڈ کراتی ہیں انہیں خود بھی بہت احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے لہٰذا وہ خود ٹھنڈا پانی، ٹھنڈے مشروبات اور ٹھنڈی چیزوں سے پرہیز کریں۔ مائیں خود بھی گرم کپڑے پہنیں اور خشک میوہ جات کو اپنی خوراک کا لازمی جزبنائیں۔ اس طرح کی احتیاطی تدابیر اختیار کر لی جائیں تو آپ کے نونہال بیمار ہونے سے بچے رہیں گے۔