Sunday, November 27, 2022

اٹھائیس ویں ترمیم کا مسودہ اور پاکستان آرمی ترمیمی بل ایوان میں پیش

اٹھائیس ویں ترمیم کا مسودہ اور پاکستان آرمی ترمیمی بل ایوان میں پیش
اسلام آباد(92نیوز)فوجی عدالتوں میں توسیع کےلئے آئین میں 28ویں ترمیم اور پاکستان آرمی ایکٹ2017ءمیں ترمیم کا بل قومی اسمبلی میں پیش کردیا گیا۔ سپیکر نے بل پارلیمانی رہنماﺅں کی کمیٹی میں بھیجنے کا عندیہ دیدیا کہتے ہیں سب کے تحفظات دور کئے جائینگے مولانا فضل الرحمن کا کہناہے خدارا منظم مسلح تنظیموں سے جان چھڑائی جائے ۔ تفصیلات کےمطابق قومی اسمبلی کا اجلاس سپیکر ایاز صادق کی صدارت میں ہوا۔ اجلاس کے دوران ایک بار کورم ٹوٹا  دوبارہ اجلاس ہوا تو کورم پورا نکلا وفاقی وزیر زاہد حامد نے فوجی عدالتوں میں توسیع کےلئے آئین میں 28ویں آئینی ترمیم اورپاکستان آرمی ایکٹ 2017ءمیں ترمیم کا بل پیش کیا۔ ان کاکہنا تھا کہ جو 28 ویں ترمیم پیش کی گئی ہے وہ منظور ہونے کے بعد23ویں ترمیم کہلائے گی 2015 میں کئے گئے خصوصی اقدامات کو توسیع دی جارہی ہے جن جماعتوں کے تحفظات ہیں ا نہیں دور کیا جائیگا۔ ایوان نے 28ویں آئینی ترمیم کو فوری طور پر زیرغور لانے کی تحریک بھی منظور کرلی ۔ اس موقع پر مولانا فضل الرحمن نے اظہارخیال کرتے ہوئے کہا کہ دہشتگردی کے اچانک واقعات سے لگتا ہے دہشتگردی ختم نہیں ہوئی۔ اب اس کا کیا معنی لیا جائے بتایا جائے دہشت گردی کے خلاف فوج کی مدد حاصل کررہے ہیں یا اختیارات دے رہے ہیں۔ پیپلزپارٹی کی رکن عذرا افضل کاکہنا تھا کہ بل پر پی پی کو کچھ تحفظات ہیں ۔انہیں دور کیا جائے سپیکر نے رولنگ دی کہ بیشتر جماعتوں کو تحفظات ہیں۔  انہوں نے وزیر قانون کوہدایت کی کہ سوموار کو پارلیمانی رہنماﺅں کا اجلاس بلا کر سب کے تحفظات دور کئے جائیں قومی اسمبلی کا اجلاس پیر کی شام 4بجے دوبارہ ہوگا۔