Tuesday, January 18, 2022
براہراست ٹی وی براہراست نشریات(UK) آج کا اخبار English News
English News آج کا اخبار
براہراست ٹی وی براہراست نشریات(UK)

پاکستان میں داعش کا نیٹ ورک پکڑلیا : ڈی جی آئی بی کی بریفنگ

پاکستان میں داعش کا نیٹ ورک پکڑلیا : ڈی جی آئی بی کی بریفنگ
February 10, 2016
اسلام آباد (92نیوز) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کا ان کیمرہ اجلاس ہوا جس میں ڈی جی آئی بی آفتاب سلطان نے بتایا ہے کہ 2015ءمیں ملک میں دہشت گردی کے 141 واقعات رونما ہوئے۔ 1121جرائم پیشہ افراد کو گرفتار کیا گیا۔ صوبوں کو دہشت گردی کے خلاف مزید موثر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ تفصیلات کے مطابق سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کا ان کیمرہ اجلاس سینیٹر رحمان ملک کی صدارت میں ہوا۔ ڈی جی آئی بی آفتاب سلطان نے کمیٹی کو ملک میں امن و امان کی صورتحال پر بریفنگ دی۔ انہوں نے بتایا کہ ملک بھر میں دہشت گردی کے واقعات میں نمایاں کمی آئی ہے۔ 2015ءمیں دہشت گردی کے 141 واقعات رونما ہوئے۔ 1121جرائم پیشہ افراد کو گرفتار کیا گیا۔ کے پی کے سے 581 دہشت پکڑے گئے۔ صوبے میں17 دہشت گرد حملے ہوئے‘ 84 دہشت گرد مارے گئے۔ بشیر بلور حملے کے ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ ملزما ن کا تعلق تحریک طالبان سے ہے۔ شکار پور حملے کے 2ملزمان کو گرفتار کر لیا۔ بارڈر خود کش حملے کے ملزمان بھی پکڑے گئے ہیں۔ ڈی جی آئی بی کا کہنا تھا کہ داعش کی موجودگی سامنے آ چکی ہے۔ طالبان کے عمر خلیفہ گروپ کو پکڑا جا چکا ہے۔ کراچی میں دو سال کے دوران 27 دہشت گرد مارے گئے۔ پنجاب حکومت نے کالعدم تنظیموں کے مالی تعاون پر پابندی پر عملدرآمد کرایا ہے تاہم صوبوں کو مزید موثر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ ٹرائبل ایریا کے کچھ جہادیوں نے آرمی کے سامنے سرنڈر کردیا ہے۔ کچھ سوچ رہے ہیں قومی ایکشن پلان کے تحت بہت کامیابیاں ہوئیں۔ اجلاس میں ایڈیشنل سیکرٹری داخلہ نے بتایا کہ نیکٹا نے کام شروع کر دیا ہے۔ وزیر اعظم نیکٹا کے حوالے سے جلد اہم اجلاس بلا رہے ہیں۔ سینیٹر جاوید عباسی کا کہنا تھا کہ افغانستان سے بارڈر مینجمنٹ کا معاملہ حل کیے بغیر دہشت گردی کم نہیں ہوگی۔ ڈی جی آئی بی نے اجلاس کو بتایا کہ کراچی آپریشن صرف سٹی تک محدود ہے باقی سندھ میں نہیں ہو رہا۔ قائمہ کمیٹی کے سربراہ سینیٹر رحمان ملک نے کہا کہ کراچی میں کامیاب آپریشن پر آئی بی اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے مبارکباد کے مستحق ہیں۔ سیاست سے بالائے طاق ہو کر دہشت گردی کا مقابلہ کرنا ہو گا۔