Monday, December 5, 2022

انقرہ :سابق ترک صدر کنعان ایورن اٹھانوے برس کی عمر میں انتقال کر گئے، پچھلے سال عدالت نے انہیں فوجی بغاوت کے جرم میں عمر قید کی سزا سنائی

انقرہ :سابق ترک صدر کنعان ایورن اٹھانوے برس کی عمر میں انتقال کر گئے، پچھلے سال عدالت نے انہیں فوجی بغاوت کے جرم میں عمر قید کی سزا سنائی
انقرہ (ویب ڈیسک) ترک سیاست میں فوجی بالادستی کی علامت سابق صدر کنعان ایورن اٹھانوے برس کی عمر میں انتقال کر گئے، وہ انیس سو اسی میں منتخب وزیراعظم سلیمان دیمرل کی حکومت کا تختہ الٹ کر برسراقتدار آئے تھے۔ ریٹائرڈ جنرل کنعان ایورن نے انیس سو اسی میں فوجی بغاوت کی قیادت کی تھی اور اسمبلی تحلیل کر کے آئین ختم کر دیا تھا۔ انہیں فوجی بغاوت کے جرم میں پچھلے سال جون میں عمر قید کی سزا سنائی گئی اور عدالت نے انہیں ریٹائرڈ جنرل کے عہدے سے بھی محروم کر دیا تھا۔ انیس سو سترہ میں پیدا ہونے والے کنعان ایورن فوجی بغاوت کے ذریعے اقتدار پر قابض ہوئے اور ملک کے ساتویں صدر بنے اور انیس سو نواسی تک اس عہدے پر رہے۔ ملٹری سکول سے گریجوایشن کی انیس سو اٹھہتر میں چیف آف جنرل سٹاف مقرر ہوئے۔ انہوں نے انیس سو بیاسی میں نئے آئین کے تحت خود کو صدر منتخب کرایا اور نئے آئین میں بہت سی شہری آزادیاں سلب کر لی گئیں۔ عہدہ صدارت چھوڑنے کے بعد وہ بحیرہ متوسط کے مرمریس آئی لینڈ میں رہائش پذیر ہوئے، دو ہزار چھے میں ان کے قتل کی سازش ناکام ہوئی۔