Friday, September 30, 2022

انتخابی اصلاحات ایکٹ کیخلاف درخواستوں سے رجسٹرار آفس کے اعتراضات ختم

انتخابی اصلاحات ایکٹ کیخلاف درخواستوں سے رجسٹرار آفس کے اعتراضات ختم

اسلام آباد ( 92 نیوز ) سابق نا اہل وزیر اعظم نواز شریف کیلئے ایک اور امتحان کھڑا ہو گیا۔ چیف جسٹس نے انتخابی اصلاحات ایکٹ کے خلاف درخواستوں سے رجسٹرار آفس کے اعتراضات ختم کرتے ہوئے درخوواستیں سماعت کیلئے مقرر کرنے کی ہدایت کر دی ۔
انتخابی اصلاحات ایکٹ 2017 کو چیلنج کرنے کا معاملے پر چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے پیپلز پارٹی ، شیخ رشید اور جمشید دستی سمیت 9 درخواست گزاروں کی جانب سے رجسٹرار کے اعتراضات کےخلاف اپیلوں کی سماعت کی۔
چیف جسٹس نے دلائل سننے کے بعد رجسٹرار آفس کے اعتراضات ختم کرتے ہوئے درخواستیں سماعت کےلئے مقرر کرنے کی ہدایت کردی ۔ رجسٹرار نے ان درخواستوں پر اعتراض لگاتے ہوئے درخواست گزاروں کو متعلقہ فورم سے رجوع کرنے کی ہدایت کی تھی۔
پیپلزپارٹی کی جانب سے لطیف کھوسہ ایڈووکیٹ نے درخواست دائر کی تھی جس میں وفاق ، نوازشریف، سینیٹ ، قومی اسمبلی اور دیگر کو فریق بنایا گیا ۔ درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ قانون کے سیکشن 203کے تحت سپریم کورٹ سے نا اہل ہونے والا شخص پارٹی کا سربراہ بن گیا ہے جس کے بعد تمام منتخب نمائندے اب نا اہل شخص کے سامنے جوابدہ ہو گئے ہیں ۔ نا اہل شخص کے سامنے منتخب نمائندوں کا جوابدہ ہونا آئین کی خلاف ورزی ہے ۔ نئے قانون کے تحت تمام نا اہل افراد کے لیے راستہ بنایا گیا ہے ۔ عدالت سے استدعا ہے کہ کابینہ کو پارٹی صدر نواز شریف سے ہدایات لینے سے روکا جائے اور مسلم لیگ ن کے صدارتی انتخاب کو کالعدم قرار دیا جائے۔