Wednesday, September 28, 2022

انتخابی اصلاحات ایکٹ کیخلاف ایک اور درخواست سپریم کورٹ میں دائر

انتخابی اصلاحات ایکٹ کیخلاف ایک اور درخواست سپریم کورٹ میں دائر

اسلام آباد (92 نیوز) نواز شریف کی پارٹی صدارت پر خطرات کے بادل گہرے ہونے لگے۔ انتخابی اصلاحات ایکٹ کے خلاف انصاف کی بڑی دہلیز پر ایک اور سوالی پہنچ گیا۔
انتخابی اصلاحات ایکٹ کےخلاف جہاں درخواستوں پر درخواستیں مل رہیں تھیں وہاں ایک اور درخواست گزار نے ملک کی سب سے بڑی عدالت کا دروازہ کھٹکھٹا دیا۔
اظہر صدیق ایڈووکیٹ کی جانب سے دائر کی گئی درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ انتخابی اصلاحات ایکٹ کے بعد الیکشن کمیشن کو بے اختیار کر دیا گیا ہے۔ اب الیکشن کمیشن اپنی مرضی سے ایک نوٹیفکیشن بھی جاری نہیں کر سکتا۔
درخواست گزار نے اس ایکٹ کے تحت نااہل شخص کو پارٹی صدارت کے لئے اہل قرار دینے کے معاملے کو بھی چیلنج کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ اس اقدام سے آئین کی روح کو مسخ کر دیا گیا ہے۔
درخواست گزار نے ختم نبوت کے حلف نامے میں ترمیم اور کرپشن کی سزا پر نااہلی کی مدت 5 برس کرنے کو آئینی اور اسلامی عقائد کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے انتخابی اصلاحات ایکٹ کو مکمل طور پر کالعدم قرار دینے کی استدعا کی ہے۔