Monday, December 6, 2021
English News آج کا اخبار براہراست نشریات(UK) براہراست ٹی وی
English News آج کا اخبار
براہراست نشریات(UK) براہراست ٹی وی

انتخابی اصلاحات ایکٹ، درخواستیں سماعت کیلئے منظور کرتے ہوئے تفصیلات طلب

انتخابی اصلاحات ایکٹ، درخواستیں سماعت کیلئے منظور کرتے ہوئے تفصیلات طلب
January 1, 2018

اسلام آباد (92 نیوز) سپریم کورٹ نے انتخابی اصلاحات ایکٹ کےخلاف درخواستیں سماعت کے لئے منظور کرتے ہوئے تفصیلات طلب کر لیں۔
نواز شریف پر ایک اور مقدمہ بھاری پڑ گیا۔ وزارت عظمیٰ کے بعد پارٹی صدارت بھی خطرے میں پڑ گئی۔
انتخابی اصلاحات ایکٹ کے خلاف پیپلز پارٹی، تحریک انصاف، شیخ رشید اور جمشید دستی سمیت دیگر کی درخواستوں کی سماعت ہوئی۔ سماعت چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں 3 رکنی بنچ نے کی۔
دوران سماعت شیخ رشید کے وکیل فروغ نسیم نے پانامہ کیس کے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 63 اے میں واضح ہے کہ پارٹی سربراہ پارلیمانی ممبران کو ٹکٹ جاری کرے گا۔ اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ پارٹی سربراہ ہی پارلیمان میں موجود ممبران کو کنٹرول کرتا ہے۔
وکیل فروغ نسیم نے کہا کہ پارٹی سربراہ کا صادق و امین ہونا ضروری ہے۔ نواز شریف کا پارٹی سربراہ بننا ان کا ذاتی مقدمہ اور باز محمد کا کڑ کیس کی خلاف ورزی ہے۔
اس پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ آپ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ اگر کسی شخص کی پارلیمنٹ کی رکنیت ختم ہوئے تو وہ گورننس کا حقدار نہیں۔ عدالت نااہلی کا لفظ استعمال کرنے میں احتیاط سے کام لے رہی ہے۔ آپ یہ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ نااہل شخص کا پارٹی سربراہ بننا آرٹیکل 9 کی خلاف ورزی ہے؟؟۔
چیف جسٹس نے کہا کہ قانون سازی پارلیمنٹ کا اختیار ہے۔ آئین کی روح کیخلاف قانون سازی ہو تو عدالت جائزہ لے سکتی ہے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ اگر کوئی ایسا قانون بنا ہے جس میں پارٹی ارکان کی تعداد مقرر کی گئی ہے تووہ اچھا قانون ہے۔ اس قانون سے تانگہ پارٹیوں کی حوصلہ شکنی ہو گی۔
عدالت نے انتخابی اصلاحات ایکٹ 2017 کی منظوری تک تمام تفصیلات طلب کرتے ہوئے نواز شریف سمیت تمام فریقین کو نوٹسز جاری کر دیئے اور کیس کی مزید سماعت 23 جنوری تک ملتوی ہو گی۔