Wednesday, September 28, 2022

انتخابات ایکٹ میں مزید ترمیم کا بل سینیٹ میں بھی منظور

انتخابات ایکٹ میں مزید ترمیم کا بل سینیٹ میں بھی منظور

اسلام آباد (92 نیوز) چیئرمین سینٹ میاں رضا ربانی کی صدارت میں سینٹ کا اجلاس ہوا۔ وفاقی وزیر قانون زاہد حامد نے انتخابات ایکٹ 2017ء میں مزید ترمیم کا بل پیش کیا۔ جسے متفقہ طور پر منظور کر لیا گیا۔
چیئرمین نے بل کی منظوری کے پیش نظر وقفہ سوالات موخر کرنے کے لئے تاج حیدر کی تحریک بھی منظور کی۔ وزیر قانون نے کہا کہ گزشتہ روز اس معاملے پر قومی اسمبلی میں تفصیل سے بات ہوئی لیکن رپورٹنگ ٹھیک نہیں ہوئی۔ اس بل میں 7B اور 7Cشقیں شامل کر دی گئی ہیں۔ پہلے بھی اس بل میں احمدی ، قادیانی اور لاہوری گروپ کو غیر مسلم قرار دے چکے ہیں۔ 7 سی کے تحت اگر کوئی شخص اپنے آپ کو مسلم ووٹر کے طور پر رجسٹر کرائے تو کوئی بھی شخص اس کے خلاف درخواست دے سکتا ہے جس پر 15 دن کے اندر کارروائی کی جائے گی۔
اس پر راجہ ظفر الحق نے کہا کہ اگر اس قانون کا غلط استعمال کیا جائے تو غلط الزام لگانے والوں کو بھی سزا دی جا سکتی ہے۔
دوسری طرف اعتزاز احسن نے کہا کہ فیض آباد میں دھرنا جاری ہے۔ حکومت کہیں نظر نہیں آ رہی۔ وہ تو جاتی عمرہ میں بیٹھی ہے۔ اصلاح اصلاح ہو گئی ہے لیکن یہ کام دباو کے ذریعے کرایا گیا۔ پھر روتے ہیں کہ پارلیمنٹ کام نہیں کرتی۔ جمہوری حکومت کو چلنے نہیں دیتے۔
ڈپٹی چیئرمین سینٹ عبد الغفور حیدری نے پوری قوم کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ ایک وعدہ رہ گیا تھا جو وزیر قانون نے پورا کر دیا۔ عقیدہ ایک بار پھر محفوظ ہو گیا جس کا کریڈٹ پارلیمنٹ ہو جاتا ہے۔
اجلاس کے دوران بلوچستان اور افغانستان میں دہشتگردی کے واقعات میں شہید ہونے والوں کے لئے دعائے مغفرت بھی کی گئی۔