Wednesday, October 5, 2022

اُم رباب چانڈیو اہلخانہ قتل کیس ، مفرور ملزمان کی عدم گرفتاری پر عدالت برہم

اُم رباب چانڈیو اہلخانہ قتل کیس ، مفرور ملزمان کی عدم گرفتاری پر عدالت برہم

اسلام آباد ( 92 نیوز) اُم رباب چانڈیوکے اہل خانہ کے قتل پرازخودنوٹس کیس کی سماعت میں  سپریم کورٹ کا مفرور ‏ملزمان کی عدم گرفتاری پر برہمی کا اظہار کیا ۔  چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دئیے کیا ملزمان پولیس اور ریاست سے زیادہ طاقتور ہیں؟۔

چیف جسٹس گلزاراحمد کی سربراہی میں بینچ نے اُم رباب چانڈیو کے اہلخانہ قتل پر ‏ازخود نوٹس کی سماعت کی ، عدالت نے مفرور ملزمان کی عدم گرفتاری پر اظہار برہمی ‏کیا۔ ۔چیف جسٹس نے استفسارکیا کہ کیا ملزمان پولیس اورریاست سے زیادہ طاقتورہیں؟ ‏،کیا حیدرآباد پولیس کی ساری نفری بے کارہے؟، پولیس کے بڑے بڑے افسرملزمان کے ‏سامنے بے بس ہیں ، پولیس افسران دفاترسے باہر ہی نہیں نکلتے۔

چیف جسٹس نے ڈی ‏آئی جی حیدرآباد نعیم شیخ کی سرزنش کرتےہوئے کہا کہ کیا آپ خود کبھی ‏ملزمان کوگرفتارکرنےگئے ہیں؟  ، نعیم شیخ نے کہا کہ جگہ دیکھی ہوئی ہے تاہم کبھی ‏ملزمان کے پیچھے نہیں گیا ، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ملزمان کے پیچھے نہ جانے ‏اور دفتر بیٹھنے پر آپ سے نمٹتے ہیں۔

سپریم کورٹ نے مفرور ملزمان کی گرفتاری میں ‏مدد نہ کرنے پر ڈی جی ایف سی بلوچستان اورڈی جی رینجرز سندھ کونوٹس جاری ‏کر دیا،  عدالت نے قراردیا کہ پولیس کےمطابق ڈی جی ایف سی کو مدد کے لئے خط لکھا ‏لیکن اس کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔

عدالت نے ڈی جی ایف سی اور ڈی جی رینجرز سندھ ‏کو مفرورملزمان کی گرفتاری میں مدد کرنے  اورتین ہفتوں میں رپورٹ پیش ‏کرنے کی ہدایت کردی ، عدالت نے آئی جی سندھ کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ذاتی ‏حیثیت میں پیش ہونے کا حکم بھی دے دیا۔